ملفوظات (جلد 10) — Page 7
انبیاء کی تعریف کی وجہ فرمایا۔آجکل یہ حالت ہے کہ رات کے وقت جس کی زبان پر ایک لفظ جاری ہوا وہ سمجھتا ہے کہ میں مُلہَم ہو گیا اور اس پر فخر کرنے لگتا ہے اور اپنے نفس کی حالت کو نہیں دیکھتا کہ وہ کیسی ہے؟ سارے قرآن شریف کو پڑھ کر دیکھو اس میں کہیں نہیں یہ لکھا کہ کسی شخص پر خدا تعالیٰ اس واسطے خوش ہو ا کہ اس پر الہام ہوتا تھا بلکہ انبیاء کی تعریف خدا نے قرآن شریف میں اس وجہ سے کی ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور میں صدق اور وفا کاکمال دکھایا اور اعمال صالحہ بجالائے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کیا۔یہ ایک نہایت مکروہ طریق ہے جو ایک خواب پر انسان فخر کرتا ہے یہ ایک زہر ناک غلطی ہے۔یہ باتیں انسان کے واسطے ناز کے لائق نہیں۔انسان کا تو یہ کام ہے کہ اپنے تمام قویٰ اللہ تعالیٰ کے راہ میں خرچ کر ڈالے۔خدا تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرے۔تب وہ خدا کا ولی ہوگا۔بغیر دلیل کے کوئی دعویٰ نہیں مانا جا سکتا۔بغیر دلیل کے تو پیغمبر بھی نہیں مانے جاتے۔حضر ت موسٰی نے بھی اللہ تعالیٰ سے عرض کی تھی کہ مجھے کوئی دلیل دی جاوے جو کہ میں دنیا کے آگے پیش کروں۔۱ ۱۱؍نومبر ۱۹۰۷ء ( بوقتِ ظہر ) سائیں عالم دین صاحب ساکن دھارووال نے اپنے مجاہدات کا حال سنایا اور طرح طرح کے الہامات اور کشوف بیان کئے اور ایسے ایسے حیرت انگیز مقامات کا ذکر کیا جہاں وہ خود بخود پہنچ کر کل نبیوں اور پیغمبروں سے اپنے آپ کو افضل اور اعلیٰ سمجھتے تھے اور ( معاذ اللہ ) بذات خود خدائی کے دعویدار بن بیٹھتے تھے اور کبھی خیال کرتے تھے کہ میں خالق اور مخلوق میں درمیانی واسطہ اور وسیلہ ہوں اور خلقت میری محتاج ہے اور پھر اپنے آپ کو بالکل بے پروا اور بے نیاز سمجھتے تھے۔بیان کرتے تھے کہ آئندہ مجھ سے کچھ نشان ظاہر ہوں گے اور عجیب تر یہ کہ حضرت اقدس سے مخا طب ہو کر یہ بھی کہنے لگ جاتے تھے کہ میں