ملفوظات (جلد 10) — Page 126
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۶ جلد دہم غرض ان سب واقعات اور شہادتوں سے اور نیز قرآن شریف سے صاف طور سے ثابت ہے کہ ہندوستان میں بھی نبی گزرے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ اِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) اور حضرت کرشن بھی انہیں انبیاء میں سے ایک تھے جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر خلق اللہ کی ہدایت اور توحید قائم کرنے کو اللہ کی طرف سے آئے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک قوم میں نبی آئے ہیں ۔ یہ بات الگ ہے کہ ان کے نام ہمیں معلوم نہ ہوں۔ مِنْهُم مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَ مِنْهُم مَّنْ لَّمْ نَقْصُصُ عَلَيْكَ (المؤمن : ۷۹) لمبے زمانے گذر جانے کی وجہ سے لوگ ان کی تعلیمات کو بھول کر کچھ اور کا اور ہی ان کی طرف منسوب کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اب وہ دیکھو بیچارے حضرت عیسی وہ تو خود اپنی وفات کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو خدا کا ایک عاجز بندہ اور معمولی انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور دیگر حوائج انسانی کا محتاج بیان کرتے ہیں اور خدائی سے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں مگر عیسائی ہیں کہ ان کو ز بر دستی خدا بنائے بیٹھے ہیں یہی حال حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ایک شخص نے کچھ عرصہ ہوا لکھا تھا کہ تمام انبیاء اولیاء اور ہر طبقہ کے لوگ حضرت امام حسین کی شفاعت ہی سے نجات پاویں گے۔ دیکھو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو انہوں نے پہلے ہی قصہ تمام کر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باقی رہ گئے تھے۔ سواب دیکھ لو کہ آپ کے متعلق بھی قصہ رض تمام کر دیا کہ ان کو بھی بجز امام حسین نعوذ باللہ نجات نہیں ہوگی ۔ اور بجز شفاعت امام حسین آپ کو بھی کوئی چارہ نہ ہوگا ۔ دیکھو ان لوگوں نے کہاں تک غلو کر دیا ہے۔ غرض انبیاء کے دنیا سے گزر جانے کے بعد ان کی پاک تعلیمات کا یہ حال کیا جاتا ہے قرآن شریف کیا ہے؟ حکم ہے۔ گل کتب سابقہ کی اصلیت کھول کر دکھا دی ہے۔ مولوی ابو رحمت صا صاحب نے عرض کی حضور میرے واسطے دعا فرمائی سچا مومن بننا چاہیے جاوے پیشتر تو میری زندگی اور رنگ میں تھی مگر اب جب سے میں نے علی الاعلان حضور کے عقائد کی اشاعت اپنا فرض مقرر کر لیا ہے تو میری برادری بھی مخالف ہو گئی ہے