ملفوظات (جلد 10) — Page 125
کہ ایک آگ ہے اور راجہ رامچندر جی اس کے کنارے پر ہیں اور کرشن جی عین اس کے وسط میں پڑے ہیں۔حا ضرین مجلس میں سے ایک شخص نے یوں اس خواب کی تعبیر بیان کی کہ چونکہ وہ دونوں کافر ہیں اس واسطے آگ میں ہیں۔مگر ایک کافر کم ہے اس لئے وہ کنارے پر ہے اور دوسرا سخت کافر ہے اس واسطے وہ آگ کے بیچوں بیچ پڑا ہے مگر مرزا جان جاناں صاحب جو کہ خواجہ صاحب کے مرید تھے انہوں نے عرض کی کہ حضور یہ تعبیر صحیح نہیں ہے۔خواجہ صاحب نے فرمایا کہ تم کیا بیان کرتے ہو۔اس پر مرزا جان جاناں نے یوں تعبیر کی کہ وہ آگ آتشِ محبتِ الٰہی ہے دوزخ کی آگ نہیں۔رامچندر جی سالک ہیں اور ابھی کمالِ عشق حاصل نہیں ہوا۔اس واسطے اس کو کنارے پر دیکھا۔مگر کرشن جی مجذوب ہیں اور محبت الٰہی کی آگ جس سے غیر اللہ جل جاتا ہے اس میں ان کو کمال حاصل ہو گیا ہے۔اس واسطے ان کو عین بیچوں بیچ میں دیکھا ہے۔ایک اور واقعہ اسی مضمون کے متعلق حضرت اقدس ؑ نے یوں بیان فرمایا کہ اولیاء اللہ میں سے ایک صاحبِ کشف ایک دفعہ اجودھیا میں پہنچے۔وہاں پہنچ کر <mark>مسجد</mark> میں لیٹ گئے۔دیکھتے کیا ہیں کہ کرشن جی آئے اور سات روپے اُن کی نذر کئے کہ ہماری طرف سے بطور دعوت قبول کیا جاوے۔وہ ولی اللہ صاحب چونکہ مسلمان تھے انہوں نے کہا کہ تم لوگ کافر ہو ہم تمہارا مال نہیں کھاتے تو اس پر کرشن جی نے عرض کیا کہ کیا آپ موجودہ ہندوؤں سے ہماری حالت اور ایمان کا اندازہ لگاتے ہیں؟ ہم ان میں سے ہرگز ہرگز نہیں ہیں بلکہ ہمارا مذہب توحید ہے اور ہم آپ لوگوں کے بالکل قریب ہیں۔علاوہ ازیں ابنِ عربی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ کَانَ فِی الْھِنْدِ نَبِیٌّ اَسْوَدُ اللَّوْنِ اسْـمُہٗ کَاھِنٌ یعنی ہندوستان میں ایک نبی گذرا ہے جس کا رنگ کالا تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔مجدّد الف ثانی صاحب سر ہندی فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں بعض قبریں ایسی ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں کہ نبیوں کی قبریں ہیں۔