ملفوظات (جلد 10) — Page 127
اور درپئے آزار ہے اور عام طور سے لوگ بھی مجمعوں میں کم آتے ہیں۔اس پر حضرت اقد سؑ نے فرمایا کہ آپ صبر سے کام لیں اور استقلال رکھیں۔آپ دیکھ لیں گے کہ پہلے سے بھی زیادہ لوگ آپ کے مجمعوں میں جمع ہوں گے اور سارے مشکلات دور ہو جاویں گے۔ایسی مشکلات کا آنا از بس ضروری ہوتا ہے۔دیکھو امتحان کے بغیر کسی کی کچھ قدر نہیں ہوتی۔دنیا ہی میں دیکھ لو کہ پاسو ں کی کیسی پوچھ ہوتی ہے کہ کیا پاس کیا ہے؟ پس جو لوگ خدائی امتحان میں پا س ہو جاتے ہیں پھر اُن کے واسطے ہر طرح کے آرام وآسائش، رحمت اور فضل کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔دیکھو! قرآن شریف میں صاف فرما یا ہےکہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت : ۳ ) صرف زبان سے کہہ لینا تو آسان ہے مگر کچھ کر کے دکھانا اور خدائی امتحان میں پاس ہونا بڑی بات ہے۔دیکھو! ہماری ہی ابتدائی حالت پر غور کرو کہ اوّل اوّل ہمارے ساتھ ایک آدمی بھی نہ تھا۔مولوی محمد حسین نے ہمارے واسطے کُفر کا فتویٰ تیار کیا اور پشاور سے لے کر بنارس تک تمام ہندوستان کے بڑے بڑے مولویوں کی دو تین صد مہریں لگوالیں اور فتویٰ دے دیا کہ ان کا قتل کرنا، ان کا مال لوٹ لینا، ان کی عورتیں چھین لینا سب جائز ہے اور یہ لوگ کافر، اَکفر، ضالّ، مُضِلّ اور یہود نصاریٰ سے بھی بد تر ہیں۔مگر دیکھ لو کہ اس کی کیا پیش گئی۔خدا نے اس کو کیسا ذلیل کیا۔پس سچے مومن بننا چاہیے۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پر ذرا نظر ڈالو۔آپؐکے زمانے میں کیسے مشکلات کا سامنا تھا۔مگر آپؐکے اور آپؐکے صحابہ ؓکے وفا،صدق، صبر اور استقامت نے کیا کچھ کر دکھایا یقیناً جانو کہ اگر کروڑ توپ بھی ہوتی جب بھی یہ کام جو ان لوگوں کے ایمان، صدق، صبر اور استقلال نے کر دکھایا ہرگز ہرگز نہ کر سکتی۔دیکھو! آپؐکے پاس نہ کوئی فوج تھی نہ توپیں تھیں نہ سپاہی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کیسی تائید کی کہ بڑے بڑے لوگ خس وخاشاک کی طرح فتح ہوتے چلے گئے۔