ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 4

اس زمانہ کے مُلّاں فرمایا۔اس زمانہ کے مُلّانوں کو بھی مُردوں کے عبر ت انگیز نظاروں کو بہت دیکھنا پڑتا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ وہ بھی سخت دل ہو گئے ہیں۔کلکتہ میں ایک مُلّاں کا ذکر اخبار میں لکھا ہے کہ اس پر کسی قرض خواہ نے نالش کی تو اس نے جوابِ دعویٰ میں کہا کہ امسال کلکتہ کی صحت اچھی رہی اور لوگ بہت نہیں مَرے اس واسطے میں کچھ دے نہیں سکتا۔البتہ بسبب قحط و وبا اگلے سال لوگوں کے بہت مَرنے اور معقول آمدنی حاصل ہونے کی اُمید ہے پھر قرضہ ادا کیا جائے گا۔ایسا ہی اس جگہ دو ملّانوں کے درمیان جو بھائی تھے باہمی تنازعے ہونے پر ان کے درمیان مسلمانوں کے گھر وں کی تقسیم کر دی گئی۔تو ایک مُلّاں اس بات پر ناراض ہوا کہ جو لوگ میر ے حصے میں آئے ان کے قد چھوٹے ہیں اور ان کے کفن پر سے جو چادر اترے گی وہ چھوٹی ہو گی۔اس قدر رذالت ان لوگوں میں آگئی ہے۔اللہ رحم کرے۔ایک آیت کا القائی ترجمہ فرمایا۔آیت قرآنیقَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا(الشمس:۱۰،۱۱) کا ترجمہ اردو میں ایک دفعہ سوچتا تھا تو یہ شعر لکھا گیا۔؎ کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے تصوّف کی غلط اصطلاحات فرمایا۔سیدھی اور سچی اور سادہ عام فہم منطق وہ ہے جو قرآن شریف میں ہے اس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ایک سیدھی راہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہم کو سکھلا دی ہے۔چاہیے کہ آدمی قرآن شریف کو غور سے پڑھے۔اس کے اَمر اور نہی کو جداجدا دیکھ رکھے اور اس پر عمل کرے اور اسی سے وہ اپنے خدا کو خوش کر لے گا۔باقی منطقیوں نے اور صوفیوں نے جو اصطلاحیں بنائی ہیں وہ اکثر لوگوں کے واسطے ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہیں کیونکہ ان میںپیچیدگیاں اور مشکلات ہیں۔فرمایا۔ایک بزرگ نے جس پر ہم حُسنِ ظن رکھتے ہیں کہ اس نے کسی نیک نیتی سے لکھا ہوگا۔گو اس کا قول صحیح نہیں ہے یہ لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کامل نہ تھے کیونکہ ان کا پورے طور پر نزول نہ