ملفوظات (جلد 10) — Page 4
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد جلد دہم فرمایا۔ اس زمانہ کے ملانوں کو بھی مردوں کے عبرت انگیز نظاروں کو اس زمانہ کے ملاں بہت دیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ وہ بھی سخت دل ہو گئے ہیں ۔ کلکتہ میں ایک ملاں کا ذکر اخبار میں لکھا ہے کہ اس پر کسی قرض خواہ نے نالش کی تو اس نے جواب دعوئی میں کہا کہ امسال کلکتہ کی صحت اچھی رہی اور لوگ بہت نہیں مرے اس واسطے میں کچھ دے نہیں سکتا۔ البته بسبب قحط و و با اگلے سال لوگوں کے بہت مرنے اور معقول آمدنی حاصل ہونے کی اُمید ہے پھر قرضہ ادا کیا جائے گا ۔ ایسا ہی اس جگہ دو ملانوں کے درمیان جو بھائی تھے باہمی تنازعے ہونے پر ان کے درمیان مسلمانوں کے گھروں کی تقسیم کر دی گئی ۔ تو ایک ملاں اس بات پر ناراض ہوا کہ جو لوگ میرے حصے میں آئے ان کے قد چھوٹے ہیں اور ان کے کفن پر سے جو چادر اترے گی وہ چھوٹی ہوگی ۔ اس قدر رذالت ان لوگوں میں آگئی ہے۔ اللہ رحم کرے۔ فرمایا ۔ آیت قرآنی قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ ایک آیت کا القائی ترجمہ دعا (الشمس : ۱۱۰) کا ترجمہ اردو میں ایک دفعہ سوچتا تھا تو یہ شعر لکھا گیا۔ کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے فرمایا۔ سیدھی اور سچی اور سادہ عام فہم منطق وہ ہے تصوف کی غلط اصطلاحات جو قرآن شریف میں ہے اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ۔ ایک سیدھی راہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہم کو سکھلا دی ہے۔ چاہیے کہ آدمی قرآن شریف کو غور سے پڑھے۔ اس کے امر اور نہی کو جدا جدا د یکھ رکھے اور اس پر عمل کرے اور اسی سے وہ اپنے خدا کو خوش کرلے گا۔ باقی منطقیوں نے اور صوفیوں نے جو اصطلاحیں بنائی ہیں وہ اکثر لوگوں کے واسطے ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہیں کیونکہ ان میں پیچیدگیاں اور مشکلات ہیں۔ فرمایا۔ ایک بزرگ نے جس پر ہم حُسنِ ظن رکھتے ہیں کہ اس نے کسی نیک نیتی سے لکھا ہوگا ۔ گو اس کا قول صحیح نہیں ہے یہ لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کامل نہ تھے کیونکہ ان کا پورے طور پر نزول نہ