ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 104

باتیں سن بھی نہیں سکتے۔انہیں کسی موقع پر کسی پیرائے میں نہایت نرمی سے نصیحت کر جانا چاہیے۔۱ بلا تاریخ عقیقہ کس دن کرنا چاہیے عقیقہ کی نسبت سوال ہوا کہ کس دن کرنا چاہیے؟ فرمایا۔ساتویں دن۔ا گر نہ ہو سکے تو پھر جب خدا توفیق دے۔ایک روایت میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ چالیس سال کی عمر میں کیا تھا۔ایسی روایات کو نیک ظن سے دیکھنا چاہیے۔جب تک قرآن مجید و احادیثِ صحیحہ کے خلاف نہ ہوں۔مسجد کے ستونوں کے درمیان نماز پیل پایوں کے بیچ میں کھڑے ہونے کا ذکر آیا کہ بعض احباب ایسا کرتے ہیں۔فرمایا۔اضطراری حالت میں تو سب جائز ہے۔ایسی باتوں کا چنداں خیال نہیں کرنا چاہیے اصل بات تو یہ ہے کہ خدا کی رضا مندی کے موافق خلوصِ دل کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے ان باتوں کی طرف کوئی خیال نہیں کرتا۔۲ ۲۶؍جنوری ۱۹۰۸ء قُربِ قیامت سے مراد ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور نے اپنی تقریر جلسہ ماہِ دسمبر میں فرمایا تھا کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کا وقت قریب ہے۔کیا اس سے یہ مراد ہے کہ کچھ سالوں کی بات ہے ؟ فرمایا کہ قرآن میں بھی ہے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ (القمر: ۲ ) اور ایسی دیگر آیات پس سمجھ سکتے ہو کہ قریب کے کیا معنے ہیں؟ قرب الساعۃ کے جو نشانات تھے وہ تو ظاہر ہو چکے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ۱ بدر جلد ۷ نمبر ۶ مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۴،۵ ۲ بدر جلد ۷ نمبر ۶ مورخہ ۱۳؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰