ملفوظات (جلد 10) — Page 105
آخری زمانہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ہولناک واقعہ پیش آتا تو فر ماتے کہ قیامت آگئی۔نشان وہ ہوتا ہے جو اپنی عظمت سے رُعب ڈال دے ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ حضور کا الہام تھا۔ستائیس کو خوشیاں منائیں گے۔سو ۲۷ ماہ پوہ کو بارش ہو گئی اور لوگوں نے خوشیاں منائیں۔فرمایا۔یہ تکلّفات ہیں جو ہم نہیں چاہتے۔خدا کا وہ نشان ہوتا ہے جو دل بول اُٹھیں بلکہ دشمن بھی کہہ دیں کہ یہ بات ہو گئی گو دشمن کا اقرار زبان سے محال ہے مگر تا ہم نشان وہ ہوتا ہے جو اپنی عظمت سے رعب ڈال دے۔دعا کی دو قسمیں فرمایا۔جو خط آتا ہے میں اُسے پڑھ کر اس وقت تک ہاتھ سے نہیں دیتا جب تک دعا نہ کر لوں کہ شاید موقع نہ ملے یا یاد نہ رہے۔مگر دعا دو قسم ہے جو اس کوچہ میں داخل ہووے وہی خوب سمجھتا ہے۔ایک معمولی۔ایک شدّت توجہ سے۔اور یہ آخری صورت ہر دعا میں میسر نہیں آتی۔سوز اور قلق کا پیدا ہونا اپنے اختیار میں نہیں۔کوئی مخلص ہو تو اس کے لئے خود ہی دعا کرنے کو جی چاہتا ہے۔یوں تو ہر ایک شخص جو ہماری جماعت میں داخل ہے اس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں۔مگر مذکورہ بالا حالت ہر ایک کے لیے میسر نہیں آتی۔یہ اختیاری بات نہیں پس جسے جوش دلانا ہو وہ زیادہ قرب حاصل کرے۔مکر کے معنے فرمایا۔جب انسان مکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ خد ا بھی مکر کرتا ہے۔مکر کا مقابلہ مکر کرے جب ہی بات بنتی ہے۔نادان مکر کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ زبان کی نا واقفیت کی وجہ سے ہے اس میں کوئی بری بات نہیں۔مَکْر اس باریک تدبیر کو کہتے ہیں جو خبیث آدمی کے دفع کے لئے کی جائے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ ( اٰل عـمران :۵۵ ) رکھا۔حقیقی دعا دعا دو قسم ہے۔ایک تو معمولی طور سے۔دوم وہ جب انسان اُسے انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔پس یہی دعا حقیقی معنوں میں دعا کہلاتی ہے۔انسان کو چاہیے کہ کسی مشکل پڑنے کے بغیر بھی دعا کرتا رہے۔کیونکہ اسے کیا معلوم کہ خدا کے