ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 63

۶۳ ملائكة الله پانی لا کر برساتا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان بخارات کو قائم کرنے والا فرشتہ ہے جن سے بارش بنتی ہے۔ہم تو آخری سبب کو فرشتہ کہتے ہیں نہ یہ کہ کوئی اور سبب ہی نہیں ہوتا۔ہر چیز کے سبب ہیں مگر سب اسباب کے آخر میں فرشتہ کام کر رہا ہوتا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ مختلف تغییرات اسباب کے ماتحت ہوتے ہیں اور ایک سبب کے پیچھے دوسرا، دوسرے کے پیچھے تیسر ا حتی کہ سینکڑوں ایسے سبب بھی ہوں گے جن کو دنیا جانتی بھی نہیں۔مگر سب کے پیچھے فرشتہ ہو گا۔درمیانی اسباب خواہ کروڑوں ہوں ہم ان کا انکار نہیں کرتے لیکن سب کے آخر میں فرشتہ مانتے ہیں۔چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جو تغیرات ہوتے ہیں۔وہ مقررہ قانون کے ماتحت ہوتے ہیں مثلاً کسی کو تپ چڑھتا ہے اگر تپ چڑھانے والا فرشتہ ہے تو کونین دینے سے کیوں اتر جاتا ہے؟ اور جب علاج سے مرض دُور ہو جاتی ہے تو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ فرشتے نے تپ چڑھایا ؟ اسی طرح اگر کھانسی فرشتہ لگا تا ہے تو دوائی دینے سے کیوں دور ہو جاتی ہے؟ کیا اس وقت فرشتہ بھاگ جاتا ہے؟ یہ اعتراض بھی جاہلانہ ہے کیونکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ فرشتے کوئی قادر مطلق ہستی ہیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے خواص الاشیاء کو ظاہر کرتے ہیں۔جب کوئی شخص ان اشیاء کو استعمال کرتا ہے جن کے نتیجہ میں تپ چڑھایا جانا مقدر ہے تو جو فرشتہ ان اشیاء کے خواص کے ظہور کے ابتدائی اسباب کا مؤکل ہے اس کا نتیجہ بخار پیدا کرتا ہے۔لیکن جب انسان ان اشیاء کو استعمال کرتا ہے جن کے خواص مخفی در مخفی سلسلہ اسباب کے نتیجہ میں بخار کواُتارنے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں تو اس وقت ان اشیاء کا آخری مؤکل فرشتہ اپنا اثر ظاہر کرنا شروع کرتا ہے اور پہلا فرشتہ بموجب مقررہ قواعد کے اپنے اثر کو ہٹانا شروع کر دیتا ہے۔