ملائکۃ اللہ — Page 62
۶۲ ملائكة الله ثواب اور زیادت علم ہوتی ہے اور اس کی دلچسپی کو بڑھاتی ہے۔یہ ایک طبعی خاصہ ہے کہ مخفی ھے انسان کی دلچسپی کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔دوائیوں کی تاثیرات اور ایجادات اس قبیل میں سے ہیں۔اور ان اسباب کا دریافت کرنا ہی مدارج انسانی قائم کرتا ہے۔پس روحانی اسباب مخفیہ بھی ضروری تھے تا انسان کے علم باطن میں بھی زیادتی ہو اور کوشش اور سعی میں بھی تفاوت ہو اور روحانی آدمی ایک دوسرے کے مقابلہ میں فضیلت حاصل کریں اور مسابقت کا موقعہ ملے اور مخفی در مخفی علوم کی واقفیت حاصل کر کے اس کے یقین میں ترقی اور حوصلہ میں زیادتی ہو اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتیں اس کے سامنے ظاہر ہوں۔بھلا یہ کیونکر ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو جو اس کا وجود مخفی کرتا تھا اسقدر شاندار بناتا اور اس سلسلہ کو جو اس کا وجود ظاہر کرتا ہے بالکل محدود کر دیتا۔پس اسباب کی احتیاج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہر چیز کا دُنیا میں ہمیں سبب نظر آتا ہے پھر اس بات کو کس طرح مان لیں کہ وہ فرشتوں کے ذریعہ ہوتی ہیں؟ مثلاً آندھی آتی ہے اس کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ جب جو میں بعض خاص قسم کے تغیرات ہوں تو آتی ہے یا بادل آتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ سورج کے ذریعہ پانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور وہی برستے ہیں۔یہ کس طرح مان لیں کہ فرشتوں کے ذریعہ ایسا ہوتا ہے؟ یہ جہالت کی باتیں ہیں اور اُس زمانہ کی ہیں جب کہا جاتا تھا کہ فرشتہ سمندر سے پانی پی کر آتا ہے اور پھر آکر بارش برساتا ہے اس قسم کی باتیں اب علم اور تحقیقات کے زمانہ میں کون مان سکتا ہے؟ مگر اس اعتراض کے پیش کرنے والوں نے فرشتوں کے متعلق جو صحیح عقیدہ ہے، اس کو سمجھا نہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ بارش برسنے کا قریبی سبب فرشتہ ہے اور فرشتہ سمندر سے