ملائکۃ اللہ — Page 64
۶۴ ملائكة الله پس یہ کہنا درست نہیں کہ دوا سے بیماری کا اثر ظاہر کرنے والا فرشتہ بھاگ جاتا ہے بلکہ امر واقع یہ ہے کہ جب دوا کے فرشتہ کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے تو بیماری کے آثار ظاہر کرنے والا فرشتہ اپنے اثر کو ہٹانا شروع کر دیتا ہے۔ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ اب میں اس بات کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ مانا کہ ملائکہ اچھی چیز ہیں اور ان کے ذریعہ چیزوں کا اثر ظاہر ہوتا ہے لیکن کو نین بھی تو مفید چیز ہے اس سے تپ اُتر جاتا ہے، اس پر ایمان لانے کا کیوں حکم نہیں دیا گیا؟ اسی طرح تم کہتے ہو ملائکہ بارشیں برساتے ہیں مگر سورج بھی تو بارشیں برسنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس پر ایمان لانے کا کیوں نہیں حکم دیا گیا ؟ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ اس کے متعلق غور کرنے کے لئے آؤ یہ معلوم کریں کہ رسولوں، کتابوں پر ایمان لانے کا کیوں حکم دیا گیا ہے؟ جب یہ معلوم ہو جائے گا تو ہمیں اس اصل کا پتہ لگ جائے گا جس کی وجہ سے کسی شئے پر ایمان لانے کا حکم دیا جاتا ہے، اس کو ملائکہ کے متعلق بھی چسپاں کر کے دیکھیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ ہستی جو بالذات ایمان کی مستحق ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہے۔رسول اور کتا بیں وہ ذرائع ہیں جن سے خدا پر ایمان لایا جاتا ہے۔ورنہ اصل میں وہ مقصود بالذات نہیں ہیں۔آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ خدا کی شناخت ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ سے ملاقات ہوتی ہے۔چونکہ وہ خدا کا کلام ہوتی ہیں اس لئے ان کے ذریعہ انسان خدا کی ذات کی طرف متوجہ ہو جاتا