مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 65
مکتوبات احمد ۶۵ جلد پنجم ۱۹۱۵ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ارشاد پر چھ ماہ قادیان میں رہ کر جملہ صحابہ کرام سے حضرت مسیح موعود کی روایات جمع کیں ۔ رض ۱۹۳۶ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے آپ کو ناصر آباد اسٹیٹ کا مینیجر مقرر کیا۔ آپ ۱۹۵۲ء میں دوبارہ ناصر آباد اسٹیٹ کے مینیجر مقرر ہوئے ۔ ناصر آباد کی زمینوں پر آپ نے بڑی محنت اور دعاؤں سے کام کیا کہ ان زمینوں کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی نے ۱۹۵۶ء کی مجلس شوری میں آپ کے اخلاص اور محنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ۔ اس سال تو صدر انجمن احمد یہ کو گھاٹا رہا لیکن مجھے نفع آیا ہے ۔ یہ محض منشی قدرت ا صاحب سنوری کے سجدوں کی برکت تھی ۔“ الله آپ ایک پُر جوش احمدیت کی تبلیغ کرنے والے تھے۔ ایک دفعہ آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ارشاد پر چھ ماہ تک قادیان ٹھہر نا پڑا تو ایک دن حضور کو عرض کیا کہ میں اپنے وطن میں دو تین ماہ کے اندر تبلیغ کی وجہ سے کسی نہ کسی کی بیعت بھیجوا دیا کرتا تھا ۔ اب چھ ماہ یہاں رہا ہوں کوئی بیعت نہیں کروا سکا ۔ حضور نے فرمایا ۔ بہت اچھا میں دعا کروں گا۔ چنانچہ حضور کی دعا سے سکا۔ صرف ایک ماہ میں ۳۶ ا حباب کی بیعتوں کی درخواستیں بھجوائیں ۔ ۱۹۵۸ء کو آپ کو اور آپ کی اہلیہ کو حج کرنے کی توفیق ملی حمید آپ ایک عبادت گزار ، صاحب الرؤیا ، دعا گو اور حضرت اقدس مسیح موعود کے خاندان کے بے حد خدمت گزار عاشق تھے ۔ آپ بتاریخ ۱۹ نومبر ۱۹۶۸ء بعمر ۸۶ سال وفات پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے ۔ تلخیص از تجلی قدرت از حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری