مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 64

حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ؓ آپ کی پیدائش ۱۸۸۲ء قریباً ۱۳۰۰ ھ میں ہوئی۔والد کا نام مولوی محمد موسیٰ صاحب تھا۔حضرت مسیح موعود ؑ جون ۱۸۸۸ء کو جب سنور ریاست پٹیالہ تشریف لے گئے تو آپ کو حضرت مسیح موعود ؑ سے مصافحہ کرنے کی سعادت ملی اور مولوی عبد اللہ صاحب سنوری ؓکا حضرت ؑ کو عرض کرنے پر کہ ہمارے دو بچوں کے لئے دعا فرماویں تو حضور ؑ نےآپ کو گود میں لے کر دعا فرمائی۔گو آپ نے پہلے ہی حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا تھا مگر دستی بیعت ۱۸۹۸ء میں کی۔دستی بیعت کرنے کا سبب سنور کا ایک شخص بنا کہ جب آپ نے اس کو تبلیغ کی تو اس نے دلائل سے لاچار ہو کر آپ کو طعنہ دیا کہ ’’دیکھا نہ بھالا صدقے گئی خالہ‘‘ چنانچہ آپ بٹھنڈہ(ان دنوں آپ اپنے والد صاحب کے ساتھ بٹھنڈہ میں رہتے تھے اور نقشہ نویسی کا کام سیکھتے تھے) سے سوار ہو کر قادیان آئے اور دستی بیعت کی۔آپ نے ۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ء میں محکمہ مال میں ملازمت اختیار کی۔حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ آپ کا انتہائی فدائیت کا تعلق تھا جس کی وجہ سے وقتاً فوقتاً ملازمت سے رخصت لے کر قادیان کچھ عرصہ قیام کرتے۔جب آپ کی دوسری شادی ہوئی تو کچھ عرصہ بعد ڈاکٹروں نے آپ کو بتایا کہ آپ کی بیوی سے اولاد نہیں ہو سکتی۔آپ نے حضرت اقدس ؑ سے اولاد ہونے کے لئے دعا کی درخواست کی تو حضور ؑ نے آپ کی بیوی کو فرمایا کہ ان کو میری طرف سے خط لکھ دو کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمہاری اس قدر اولاد ہو گی کہ تم سنبھال نہ سکو گے چنانچہ اللہ کے فضل سے بیٹے ، بیٹیاں ملا کر ۱۴ بچے پیدا ہوئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کو متعدد خدمات خلفاء جماعت احمدیہ و سلسلہ احمدیہ بجالانے کی توفیق ملی۔