مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 57
ایک قطعہ زمین مع ایک مکان خریدا جو قریباً ایک ایکڑ پر مشتمل تھا۔۲۹؍دسمبر۱۹۲۰ء کو آپ رہائشی مکان واقع سٹار سٹریٹ نمبر۴ سے اس عمارت میں منتقل ہو گئے۔۶؍فروری ۱۹۲۱ء کو اس نئے دارالتبلیغ کا شاندار افتتاح عمل میں آیا۔دینی خدمات بجالانے کے بعد آپ واپس ہندوستان کے لئے روانہ ہوئے اور حج بیت اللہ سے مشرف ہونے اور شریف مکہ سے ملاقات کے بعد ۱۶؍ستمبر ۱۹۲۱ء کو قادیان پہنچے۔۱۹۲۲ء میں ’’مجلس شوریٰ ‘‘ کا آغاز ہوا۔اس پہلی تاریخی مجلس شوریٰ میں آپ ناظر اشاعت و تربیت کی حیثیت سے شامل ہوئے۔۱۹۲۳ء میں ملکانہ قوم میں آریوں کی طرف سے شدھی کی تحریک زورشور سے اٹھ کھڑی ہوئی۔حضرت مصلح موعودؓ نے مسلمانوں کو ارتداد کے اس طوفان سے بچانے کے لئے تبلیغی جہاد کا اعلان کیا اور آپ کو ’’امیر المجاہدین‘‘ مقرر فرمایا۔۱۹۲۴ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ پہلی بار یورپ تشریف لے گئے اس تاریخی سفر میں آپ کو بھی حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔اس سفر سے مراجعت کے بعد حضرت چوہدری صاحب سالہا سال تک ناظر دعوت و تبلیغ اور ناظر اعلیٰ کے ممتاز عہدوں پر فائز رہے۔۱۹۴۶ء میں آپ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس حیثیت سے بھی آپ کو مسلمانوں کی نمایاں خدمات بجالانے کا موقعہ ملا۔آپ مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے صدر بھی رہے۔آپ کے ایک بیٹے محترم ناصر سیال صاحب کی شادی حضرت مصلح موعود ؓ کی بیٹی صاحبزادی امتہ الجمیل صاحبہ سے ہوئی۔آپ نے ۲۸؍فروری ۱۹۶۰ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ نے آپ کی وفات پر رقم فرمایا۔’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان سے بہت محبت کرتے تھے۔… جب میں نے تشحیذ الاذہان جاری کیا تو جن لوگوں نے ابتداء میں میری مدد کی ان میں یہ بھی شامل تھے۔ملکانہ تحریک ساری انہوں نے چلائی تھی۔حضرت خلیفہ اولؓ … کے داماد بھی تھے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور اس کے فرشتے ان کو لینے کے لئے آگے آئیںاور خدا تعالیٰ کی برکتیں ہمیشہ ان پر اور ان کے خاندان پر نازل ہوتی رہیں‘‘۔٭ ٭ تلخیص از تاریخ احمدیت جلد ۲۰ صفحہ ۷۶۹ تا ۷۸۷