مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 58
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ہادی و مولانا السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حضور بندہ کا مدت سے ارادہ تھا کہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی رہ میں وقف کر دوں۔اس کا میں نے اپنے والد صاحب سے کئی دفعہ ذکر بھی کیا اور انہوں نے ایسا کرنے کی بندہ کو اجازت دی ہوئی ہے۔پہلے بھی اس قسم کی ایک عرضی میں نے حضور کی خدمت مبارک میں لکھی تھی۔مگر اس وقت حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا تھا۔کہ تمہارا ابھی وقت نہیں آیا۔اس لئے بندہ نے توقف کیا۔نہیں تو بندہ کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے۔اب بندہ حضور سے استدعا کرتا ہے کہ اس عرض کو قبول کیا جائے اور دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی اس قربانی کو قبول فرمائے۔کیونکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اللہ متقی کی قربانی قبول کرتا ہے اور دوسرے کی رد ۔۱؎ والسلام ۲۵؍ستمبر ۱۹۰۷ء حضور کا ادنیٰ غلام فتح محمد مکتوبژ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ تم نے بھی اپنی زندگی اسلام کی راہ میں وقف کی۔خدا تعالیٰ اس پر استقامت بخشے آمین۔مناسب ہے کہ مفتی محمد صادق صاحب اس کی فہرست بناتے جائیں۔٭ والسلام مرزا غلام احمد ۱؎ المائدۃ : ۲۸ ٭ تاریخ احمدیت جلد۳ صفحہ ۴۶۰،۴۶۱