مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 546 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 546

لکھا ہے کہ مہدی معہود پر کفر کا فتویٰ لگایا جاوے گا۔اگر اور کوئی کتاب نہ ہو تو حجج الکرامہ میں مہدی کے باب میں دیکھو۔پس اس صورت میں کفر کا فتویٰ لگانا ہمارے لئے کچھ مضر نہ ہوا بلکہ ایک نشان ہوا جو مکفرّین کے ہاتھ سے ظہور میں آیا۔۳۔جو شخص رمل کہتا ہے اس کا ثبوت دے اور جب تک وہ ثبوت نہ دے وہ قابل خطاب نہیں ہے۔۴۔یہ مطالبہ معجزات کا جو ہے یہ عجیب امر ہے کہ ایک ہی جگہ دو متناقض امر درج کر دیئے ہیں۔پہلے میں لکھا ہے کہ پیشگوئیاں کرتے ہیں اور دوسرے میں لکھا ہے کہ نہیں کرتے پھر ماسوا اس کے اگر کسی کو ہمارے نشان دیکھنے ہیں تو ہماری کتاب تریاق القلوب کو منگا کر دیکھ لے اس میں سو سے زیادہ نشان لکھے ہیں جن کے لاکھوں گواہ موجود ہیں۔۵۔آپ نے لکھا ہے کہ دجال کی علامتیں کو نسی ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اس دجال فرضی و وہمی کو ہرگز نہیں مانتے جس کی ہمارے مخالف علماء کے دلوں میں تصویر ہے کیونکہ اس دجال کا وجود اور اس کی صفات قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے مخالف ہیں۔قرآن کی یہ آیت۔۱؎ صاف ظاہر کر رہی ہے کہ دنیا میں قیامت تک دو قوموں کو غلبہ رہے گا یا حقیقی متبع حضرت مسیح ؑکے یعنی اہل اسلام یا ادعائی متبع حضرت مسیح ؑ کے یعنی نصاریٰ۔اور دجال نہ حقیقی متبع حضرت مسیح ؑکا ہے نہ ادعائی اس لئے وجود اس کا باطل ہے اور بخاری میں صحیح حدیث یہ ہے کہ یکسر الصلیب اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ؑ عیسائیت کے غلبہ کے وقت ظہور کرے گا اور اس کے غلبہ کو توڑے گا پس کیونکر ممکن ہے کہ ایک وقت میں عیسائی دین کا بھی غلبہ ہو اور کسی دجال کی سلطنت کا بھی غلبہ ہو اور ماسوا اس کے یہ مان لیا گیا ہے اور یہ عقیدہ ہمارے تمام مخالف علماء کا ہے کہ دجال کا تسلط بجز حرمین شریفین کے کل دنیا پر ہو گا اور یہ حدیث یکسر الصلیب کی بیان کر رہی ہے کہ مسیح عیسائیت کے غلبہ کے وقت آئے گا پس جس حالت میں دجال کا غلبہ تمام روئے زمین پر ہو گا تو عیسائی سلطنت اور مذہب کا غلبہ کس زمین پر ہو گا۔اور چونکہ یکسر الصلیب کی حدیث قرآن کی آیت مذکورہ بالا ۱؎ آل عمران : ۵۶