مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 547
سے مطابق اور موافق ہے اور یہ حدیث بخاری کی ہے اس لئے بباعث اس توافق اور تظاہر کے بھی حدیث صحیح ہے اور یہی مذہب صحیح ہے۔۶۔یہ سوال کہ مسیح کا نزول آسمان سے ہو گا اور مسجد اقصیٰ کے منار پر ہو گا۔میرے خیال میں ایسا خیال کوئی اہل علم نہیں کرے گا بجز ایک جاہل اور بیخبر کے جس کو علم حدیث کا نہیں ہے کیونکہ جہاں تک ہمارے لئے ممکن تھا ہم نے کل کتابیں حدیثوں کی دیکھیں آسمان کا لفظ کہیں نہیں دیکھا اور نہ دیکھا کہ مسیح ؑ آکر منارہ پر بیٹھ جائے گا۔اگر کسی کے پاس ایسی حدیث ہو بشرطیکہ مرفوع متصل ہو جس کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچے جب تک وہ ایسی حدیث پیش نہ کرے تب تک لائق خطاب و جواب نہیں ہے۔ہاں البتہ اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ حدیثوں میں نزول کا لفظ موجود ہے لیکن نزول سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ آسمان سے نزول ہو گا بلکہ زبان عرب میں یہ لفظ تشریف اور اکرام کا ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ فلاں لشکر فلاں جگہ اُترا اور آپ کہاں اُترے ہیں اور فارسی میں اس جگہ فروکش کا لفظ آتا ہے اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ آسمان سے اُترے ہیں اسی وجہ سے نزیل زبان عرب میں مسافر کو کہتے ہیں۔۷۔یہ وسوسہ کہ ابھی منار بنا رہے ہیں تو پھر کیا بنانے کے بعد اس پر چھلانگ ماریں گے اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ مسیح ؑمنار پر آکر بیٹھ جائے گا۔ایسا معترض جب حوالہ تلاش کرنے کے لئے کتابوں کو دیکھے گا تو ضرور شرمندہ ہو گا۔۸۔اور جو حدیث آپ نے بخاری اور مسلم کی لکھی ہے کہ مسیح ؑاُترے گا اور صلیب کو توڑے گا اور سوروں کو مارے گا اور جزیہ رکھ دے گا۔افسوس کہ اس حدیث کا صحیح ترجمہ معترض نے نہیں لکھا اور بجائے اس کے کہ جزیہ موقوف کرے گا جزیہ لگا دے گا ترجمہ کیا ہے۔میں نہیں جانتا کہ یہ حدیث ہمارے سامنے کیوں پیش کی ہے۔یہ تو اس کو مضر اور ہمارے لئے مفید ہے۔کیونکہ اول اس میں آسمان کا ذکر نہیں صرف نزول کا ذکر ہے جو زبان عرب میں مسافروں کے لئے مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ مسلم کی ایک دوسری حدیث میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک طرف مسیح ترے گا اور دوسرے مقام میں دجال اُترے گا یعنی دجال اُحد پہاڑ کے پیچھے نزول کرے گا پھر اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ؑ نصاریٰ کے غلبہ کے وقت اترے گا اور تمہارا عقیدہ یہ ہے