مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 545
مکتوب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا اگرچہ یہ سوالات جو آپ نے اپنے خط میں لکھے ہیں کئی دفعہ میں اپنی کتابوں میں ان کا جواب لکھ چکا ہوں۔لیکن آپ کے اصرار کی وجہ سے اب بھی کچھ تھوڑا سا لکھ دیتا ہوں۔قاعدہ کلی کے طور پر آپ یہ یاد رکھیں کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم سب سے مقدم قرآن شریف کو جانتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ حدیثیں ہماری ماخذ و استدلال ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور پھر اس کے بعد وہ امور مشہودہ محسوسہ جس سے کوئی عقل انکار نہیں کر سکتی اور ماسوا اس کے جس قدر احادیث یا اقوال اور آثار قرآن شریف کے مخالف ہیں یا امور مشہودہ محسوسہ بدیہیہ سے مخالف پڑے ہیں۔ہم ان کو نہیں مانتے۔اب اس مختصر تقریر کی رو سے ہمارا یہ جواب ہے کہ جس قدر حدیثیں آپ نے پیش کی ہیں۔ان میں سے کچھ تو ایسی ہیں کہ قرآن کے مخالف اور معارض ہیں اور نیز ایسی حدیثوں کے مخالف ہیں۔جو قرآن کے مطابق ہیں اور ان میں سے ایسی حدیثیں ہیں جو مجروح اور مخدوش ہیں اور محدّثین کو ان کی صحت میں کلام ہے۔چنانچہ مفصل جواب سوالات کا ذیل میں لکھا جاتا ہے۔اوّل۔قحط کی نسبت جو سوال کیا گیا ہے یہ سراسر جہالت پر مبنی ہے۔اس بات کو ہر ایک اہل علم جانتا ہے کہ مسلم میں ایک حدیث ہے کہ مسیح کے زمانہ میں ایک سخت قحط پڑے گا۔زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔دوم۔کفر کے فتوے جن لوگوں نے دیے ان سے ہمارا کچھ حرج نہیں کیونکہ جب کہ ہم قرآن اور حدیث اور آسمانی نشانوں سے ثابت کر چکے ہیں کہ ہم حق پر ہیں تو یہ فتوے ہمیں کیا ضرر پہنچا سکتے ہیں بلکہ اس سے تو ہماری اور بھی حقیقت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔۔۱؎ پھر ماسوا اس کے حدیث اور آثار کی کتابوں میں نظر کرو۔ان میں