مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 458

اہل اسلام کو کہ بسبب اپنی امارت اور خزانوں کے کس قدر عیاشی اور فسق وفجور میں پڑے ہوئے ہیں جو ناگفتہ بہ ہے۔اور آگے رہی حدیث ذوالسُّوَیْقَتَیْن کی سو اس کی نسبت شارحین نے خود لکھا ہے۔وھذا عند قرب السّاعۃ حیث لا یبقی قائل اللّٰہ اللّٰہ الی ان قال القرطبی ھذا بعد رفع القرآن من الصدور بعد موت عیسٰی وھو الصحیح یعنی اس خانہ کعبہ کا اکھاڑا جانا ذوالسُّوَیْقَتَیْنکے ہاتھ سے عین قرب قیامۃ میں ہوگا جبکہ کوئی شخص اللہ اللہ کہنے والا بھی باقی نہ رہے گا۔یہاں تک کہ کہا قرطبی نے کہ یہ امر بعد موت عیسیٰ موعود کے بوقت اٹھائے جانے قرآن کے سینوں سے واقع ہوگا اوریہی صحیح ہے۔اورپھر ایک اور بات یاد رہے کہ اگر یہ پیشین گوئیاں مخبرصادق علیہ السلام کی جس کا مصداق یہ مسیح موعود ہے نہ بھی ہونویں تب بھی یہ مجدّدِ اسلام اپنی ذات میں ایک ایسا مجمع نشانوں الٰہی کا ہے کہ اس کی تصدیق کے لئے قرآن و حدیث ہم کو مجبور کررہی ہیں پھر جبکہ پیشین گوئیاں مخبر صادق کی بھی اس پر صادق آگئی ہیں اور پھراندرونی اوربیرونی نشانات الٰہی بھی اس کی ذات میں موجود ہیں تو پھر تو نُوْرٌعَلٰی نُوْرٍ کا مضمون واقع ہوگیا۔فَاَیْنَ الْمَفَرُّ۔اورپھر ان سب امور پر علاوہ یہ ہے کہ اس کے حق میں واقع ہے کہ وہ منجانب اللہ حَکَمْ ہو کر مبعوث ہوگا تو جو روایات رطب و یابس یا موضوع ہیں ان کو وہ کیونکر قبول کرسکتا ہے کہ درصورت قبول کرنے ان کے کے ایک تو اجتماع اضداد لازم آتا ہے اور حَکَمِیَّتْ اس کی جو مسلّم فریقین ہے باطل ہوئی جاتی ہے کیونکہ حکم من اللہ کے معنے تو یہی ہیں کہ جو عقائد فاسدہ اور خیالات کاسدہ حسب روایات موضوعہ اہل اسلام میں رواج پاگئی ہوں گی۔ان میں وہ حَکَم ہو کر فیصلہ کر دیوے۔اور یہ امر تو ہرگز خیال میں نہیں آسکتا کہ وہ ایسا حکم ہو کہ تمام فرق مختلفہ اسلامیہ کے خیالات اوران کی تمام روایات متضادم کو بھی تسلیم کر لیوے اورپھر حکم ہی رہے ہذا خلف۔اوریہ بھی یاد رہے کہ مہدی بھی تو ایک مجدد ہی ہوگا لاغمرکیونکہ لفظ مجدد کا ایک ایسا عام ہے کہ خلیفہ اوّل سے لے کر مسیح موعود تک بلکہ قیامت تک جو شخص مصداق ہو۔ان اللّٰہ یبعث لہذہ الامۃ علٰی راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا