مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 457
براہین احمدیہ وتفاسیر سورہ فاتحہ وغیرہ کو اوریہ معنی اس روایت کے کچھ بعید الفہم بھی نہیں ہیں۔حدیث صحیح طواف دجال و طواف مسیح موعود میں کعبہ سے مراد دین اسلام ہے لیا گیا ہے یعنی مسیح موعود کا طواف کعبہ اسلام کے لئے تو حفاظت اسلام کے لئے ہوگا جیسا کہ کوتوال شہر کا حفاظت شہر کی کیا کرتاہے اوردجال کا طواف ایسا ہوگا جیسا کہ چور کسی مکان کی نقب زنی کے لئے طواف کیاکرتاہے کسی شاعر نے کہا ہے ؎ تفاوت است میان شنیدن من و تو تو بستن درو من فتح باب می شنوم یعنی دروازہ محبوب سے جو آواز آتی ہے میں اور تو دونوں سنتے ہیں مگر اس میں بڑا فرق ہے ُتو تو دروازہ کے بند ہونے کی آواز سنتا ہے اور میں دروازہ محبوب کے کھلنے کی آواز سنتا ہوں۔ایسا ہی طواف دجال کا اسلام کی بیخ کنی کے لئے ہوگا جیساکہ الحال پادریان نصاریٰ سے مشاہدہ ہو رہا ہے اور مسیح موعود کی حفاظت اسلام کے لئے اطراف عالم میں بذریعہ کتب ورسائل و اشتہارات ہو رہی ہے۔سائل کو ان معنی کالطف اس وقت حاصل ہو کہ جب ان روایتوں کا لحاظ بھی کیا جاوے جن میں قرآن مجید اٹھایا جانا صدور اہل اسلام سے مذکور ہوا ہے۔اورپھر اس حدیث صحیح کو بھی پیش نظر رکھے کہ لَوْکَانَ الْعِلْمُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِس یعنی اگر علم دین وعلم قرآن مجید دنیا سے اٹھ جائے اور ثریا پر چلاجائے تب بھی ایک رجل فارسی النسل اس علم کو پالیوے گا۔ان حدیثوں پر غور کر کے پھراہل زمانہ کا مشاہدہ کرے کہ علومِ قرآن سے ابناء زمانہ کس قدر بعید اور دور پڑے ہوئے ہیں بعد غور و تامل کے ان احادیث اور واقعات میں پھر اس کو لُطف ان معنی کا معلوم ہوگا اورپھر غور کرنے کا مقام ہے کہ ایسے زمانہ پر شرور اور فتن کے بھرے ہوئے وقت میں خزانہ ارضی کا کسی جگہ سے اکھاڑا جانا اسلام کے لئے کیا مفید ہو سکتاہے اوراس خزانہ ارضی سے اہل ارض جو انواع انواع کے فتنوں میں پڑے ہوئے ہیں ان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتاہے۔آپ نہیں دیکھتے امراء اور نوابوں