مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 435
طالب راہِ خدا را مژدہ باد کش خدا بنمود این وقتِ مُراد ہر کہ را یارے نہان شد از نظر از خبر دارے ہمین پُرسد خبر ہر کہ جویانِ نگارے می بود کے بیک جایش قرارے می بود مے دود ہر سوہمے دیوانہ وار تا مگر آید نظر آن روئے یار ہرکہ عشق دلبرے درجان اوست دل زِ دستش اوفتد از ہجرِ دوست عاشقان را صبر و آرامے کجا توبہ از روئے دل آرامے کجا ہر کہ را عشقِ رخِ یارے بود روز و شب با آن رخش کارے بود فرقتش گر اتفاقے اوفتد در تن و جانش فراقے اوفتد یک زمانے زندگی بے روئے یار مے کند بر وے پریشان روزگار بازچون بیند جمال و روئے او مے دود چوں بے حوا سے سوئے او مے زند در دامنش دست از جنون کز فراقت شد دلم اے یار خون ۱۵۸۔راہِ خدا کے طالب کو خوشخبری ہو کہ اسے خدا نے کامیابی کا زمانہ دکھایا- ۱۵۹۔جس کسی کا دوست اس کی نظر سے غائب ہو جاتا ہے تو وہ کسی واقف سے اس کی خبر پوچھتا ہے- ۱۶۰۔اور جو کسی معشوق کا طلب گار ہوتا ہے تو اسے ایک ہی جگہ پر کب چین آتا ہے- ۱۶۱۔وہ ہر طرف دیوانہ وار دوڑتا ہے تا کہ شائد یار کا چہرہ کہیں نظر آجائے- ۱۶۲۔جس کی جان میں دلبر کا عشق سما گیا ہے تو دوست کے فراق میں اس کا دل ہاتھ سے نکل نکل جاتا ہے- ۱۶۳۔عاشقوں کے لئے صبر اور آرام کہاں! اور معشوق کے چہرے سے روگردانی کہاں؟ ۱۶۴۔جسے دوست کے منہ سے محبت ہوتی ہے اسے تو دن رات اس کے چہرہ کا ہی خیال رہتا ہے- ۱۶۵۔اگر اتفاقاً اس سے ُجدائی ہو جائے تو اس کے جان وتن میں ُجدائی ہو جاتی ہے- ۱۶۶۔یار کے بغیر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس پر زندگانی کو تلخ کر دیتا ہے- ۱۶۷۔پھر جب وہ اس کا ُحسن اور اس کا چہرہ دیکھتا ہے تو بے حواسوں کی طرح اس کی طرف دوڑتا ہے- ۱۶۸۔اور یہ کہہ کر دیوانہ وار اس کے دامن کو پکڑ لیتا ہے کہ اے دوست میرا دل تیری ُجدائی میں خون ہو گیا-