مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 434
ترکِ خود کردیم بہرِ آن خدا ازفنائے ما پدید آمد بقا اندرین رہ دردِسر بسیار نیست جان بخواہد دادنش دشوار نیست گرنہ او خواندے مرا از فضل و جود صد فضولی کردمے بیسود بود از نگاہے این گدا را شاہ کرد قصہ ہائے راہِ ما کوتاہ کرد راہِ خود برمن کشود آن دلستان دانمش ز انسان کہ گل را باغبان ہرکہ در عہدم زِ من ماند جدا می کُند بر نفسِ خود جور و جفا پُر زِ نُور دلستان شد سینہ ام شد ز دستے صیقلِ آئینہ ام پیکرم شد پیکرِ یارِ ازل کارِ مَن شُد کارِ دِلدارِ ازل بسکہ جانم شد نہان در یارِ من بوئے یار آمد ازین گلزارِ من نور حق داریم زیرِ چادرے از گریبانم برآمد دلبرے احمدِ آخر زمان نامِ من است آخرین جامے ہمین جامِ مَن است ۱۴۷۔اس خدا کے لئے جب ہم نے اپنی خودی ترک کر دی تو ہماری فنا کے نتیجہ میں بقا ظاہر ہو گئی- ۱۴۸۔اس راستے میں زیادہ تکلیف اٹھانی نہیں پڑتی وہ صرف جان مانگتا ہے اور اس کا دینا مشکل نہیں ہے- ۱۴۹۔اگر وہ خود اپنے فضل وکرم سے مجھے نہ بلاتا تو خواہ میں کتنی ہی کوششیں کرتا سب بے فائدہ تھیں۔۱۵۰۔اس نے ایک نظر سے اس فقیر کو بادشاہ بنا دیا اور ہمارے لمبے راستہ کو مختصر کر دیا- ۱۵۱۔اس محبوب نے خود اپنا راستہ میرے لئے کھولا میں یہ بات اس طرح جانتا ہوں جیسے باغبان پھول کو- ۱۵۲۔جو میرے زمانہ میں مجھ سے ُجدا رہتا ہے تو وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے- ۱۵۳۔محبوب کے نور سے میرا سینہ بھر گیا میرے آئینہ کا صیقل اسی کے ہاتھ نے کیا- ۱۵۴۔میرا وجود اس یار ازلی کا وجود بن گیا اور میرا کام اس دلدار قدیم کا کام ہو گیا- ۱۵۵۔چونکہ میری جان میرے یار کے اندر مخفی ہو گئی اس لئے یار کی خوشبو میرے گلزار سے آنے لگی- ۱۵۶۔ہماری چادر کے اندر خدا کا نور ہے وہ دلبر میرے گریبان میں سے نکلا- ۱۵۷۔’’احمد آخر زماں‘‘ میرا نام ہے اور میرا جام ہی )دنیا کے لئے( آخری جام ہے-