مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 436
ایں چنیں صدق از بود اندر دلے گل بجوید جائے چون بُلبُلے گر تُو اُفتی با دو صد درد و نفیر کس ہمے خیزد کہ گردد دستگیر تافتن رو از خورِ تابان کہ من خود بر آرم روشنی از خویشتن این ہمین آثار ناکامی بود بیخِ شقوت نخوت و خامی بود عَالمے را کور کردست این خیال سرنگون افگند در چاہِ ضلال سوئے آبے تشنہ را باید شتافت ہرکہ جست از صدق دل آخر بیافت آں خرد مندے کہ جوید کوئے یار آبرو ریزد زِ بہر روئے یار خاک گردد تا ہوا بر بایدش گم شود تاکس رہے بنمایدش بے عنایات خدا کار است خام پختہ داند این سخن را والسلام ۱۶۹۔اگر ایسا صدق کسی کے دل میں ہو تو وہ ُبلبل کی طرح پھول کو اپنا ٹھکانا بنا لیتا ہے- ۱۷۰۔اگر تو دو سو چیخوں اور آہوں کے ساتھ گر پڑے تو پھر ضرور کوئی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتاہے- ۱۷۱۔(یہ خیال کرکے) روشن سورج سے منہ پھیر لینا کہ میں اپنے اندر سے آپ ہی روشنی پیدا کر لوں گا- ۱۷۲۔یہی تو نا ُمرادی کے آثار ہوا کرتے ہیں بدبختی کی جڑ تکبرّ اور خامی ہے- ۱۷۳۔اس خیال نے ایک جہان کو اندھا کر رکھا ہے اور اسے گمراہی کے کنوئیں میں سر کے بل ڈال دیا ہے- ۱۷۴۔پیاسے کو پانی کی طرف دوڑنا چاہئے جس نے صدقِ دل سے تلاش کی اس نے آخر کار مقصود کو پا لیا- ۱۷۵۔وہ آدمی عقلمند ہے جو یار کی گلی ڈھونڈتا ہے اور روئے یار کی خاطر اپنی عزّت ڈبوتا ہے- ۱۷۶۔وہ خاک بن جاتا ہے کہ ہوا اُسے لے اُڑے اور فنا ہو جاتا ہے تا کہ کوئی اسے راستہ دکھائے- ۱۷۷۔خدا کی مہربانی کے بغیر کام اُدھورا رہتا ہے عقلمند ہی اس بات کو جانتا ہے- والسلام