مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 429
مکتوبات احمد ۴۲۹ جلد پنجم ہر کہ آویزد بکار و بار حق فانی ایم و تیر ما تیر حق است صادقی دارد پناه آن یگان اوستاده از پیئے پیکار حق مید ما در اصل نخچیر حق است دست حق در آستین او نہاں هر که با دست خدا پیچر ز کین پیج خود کندد چو شیطان لعین اے بسا نفسے کہ ہمچو بلعم است کار او از دست موسی برهم است آمدم بر وقت چون ابر بهار با من آمد صد نشان لُطفِ یار آسمان از بهر من بارد نشان هم زمین الوقت گوید هر زمان این دو شاہد بهر من استاده اند باز در من ناقصان افتاده اند ہائے این مردم عجب کور و کراند صد نشان ببینند غافل بگذرند این چنین اینان چرا بالا پرند یا مگر زان ذات بے چون منکر اند او چو برکس مهربانی می کند زمینی آسمانی می کند از ۹۲ جوص جو شخص خدائی کا روبار میں دخل انداز ہوتا ہے وہ دراصل خدا سے جنگ کرنے کھڑا ہوتا ہے۔ ۹۳ ۔ ہم تو فانی لوگ ہیں اور ہمارا تیر خدا کا تیر ہے اور ہمارا شکار دراصل خدا کا شکار ہے۔ ۹۴۔ صادق تو اس یکتا کی پناہ میں ہوتا ہے اور خدا کا ہاتھ اس کی آستین میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ۹۵ - جو شخص دشمنی کی وجہ سے خدا کے ساتھ لڑتا ہے وہ شیطان لعین کی طرح اپنی ہی جڑا کھیڑتا ہے۔ ۹۶ ۔ بہت سے لوگ بلغم کی طرح ہیں جن کا کام موسیٰ کے ہاتھوں نہیں نہیں ہو جاتا ہے۔ ۹۷۔ میں ابر بہار کی طرح وقت پر آیا ہوں اور میرے ساتھ خدا کی مہربانیوں کے سینکڑوں نشانات روں نشانات ہیں۔ ۹۸۔ آسماں میرے لیے نشان برساتا ہے اور زمین بھی ہر دم یہی کہتی ہے کہ وقت یہی ہے۔ ۹۹۔ میری تائید میں یہ دو گواہ کھڑے ہیں پھر بھی یہ بیوقوف میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ۱۰۰ ۔ ہائے افسوس یہ لوگ عجب طرح کے اندھے اور بہرے ہیں سینکڑوں نشان دیکھتے ہیں پھر بھی غافل گزر جاتے ہیں۔ ۱۰۱ ۔ یہ اس قدر کیوں اونچے اُڑتے ہیں (یعنی اتنے متکبر کیوں ہیں ) شاید اس بے مثل ذات کے منکر ہیں۔ ۱۰۲۔ وہ خدا تو جب کسی پر مہربانی کرتا ہے تو اسے زمینی سے آسمانی بنا دیتا ہے۔