مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 424
لیک دو نان رابمغزش راہ نیست ہردلے از سرآن آگاہ نیست تانہ باشد طالبے پاک اندرون تانہ جوشد عشق یار بیچگون راز قرآن را کجا فہمد کسے بہرنورے نور می باید بسے این نہ من قرآن ہمین فرمودہ ست اندر و شرط تطہّر بودہ است گر بقرآن ہر کسے را راہ بود پس چرا شرط تطہّر را فزود نور را داند کسے کو نورشد و از حجاب سرکشی ہا دور شد ایں ہمہ کوران کہ تکفیرم کنند بے گمان از نور قرآن غافل اند بے خبر از رازہائے این کلام ہرزہ گویان ناقصان و ناتمام درکف شان استخوانے بیش نیست درسر شان عقل دور اندیش نیست مردہ اند و فہم شان مردار ہم بے نصیب از عشق و از دلدار ہم الغرض فرقان مدار دین ماست او انیس خاطر غمگین ماست ۳۷۔لیکن ذلیل لوگوں کو قرآن کی حقیقت کی خبر نہیں ہرایک دل اس کے بھیدوں سے واقف نہیں ہے- ۳۸۔جب تک طالبِ حق پاک باطن نہیں ہوتا اور جب تک اس یار بے مثال کا عشق اس کے دل میں جوش نہیں مارتا- ۳۹۔تب تک کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے نور کے سمجھنے کے لئے بہت سا نور باطن ہونا چاہئے- ۴۰۔یہ میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے پاک ہونے کی شرط ہے- ۴۱۔اگر ہر شخص قرآن کو )خود ہی( سمجھ سکتا تو خدا نے تطہّر کی شرط کیوں زائد لگائی- ۴۲۔نور کو وہی شخص سمجھتا ہے جو خود نور ہو گیا ہو اور سرکشی کے حجابوں سے دور ہو گیا ہو- ۴۳۔یہ سب اندھے جو میری تکفیر کر رہے ہیں۔یقیناً قرآن کے نور سے بے خبر ہیں- ۴۴۔اور اس کلام کے اسرار سے ناواقف ہیں- بیہودہ گو- ناقص اور خام ہیں- ۴۵۔ان کے ہاتھ میں ہڈی سے بڑھ کر کچھ نہیں اور ان کے سر میں دور اندیش عقل نہیں ہے- ۴۶۔وہ خود مرُدہ ہیں اور ان کا فہم بھی مرُدار ہے- وہ عشق اور معشوق دونوں سے محروم ہیں- ۴۷۔الغرض قرآن ہمارے دین کی بنیاد ہے وہ ہمارے غمگین دل کو تسلی دینے والا ہے-