مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 425
نُورِ فرقان می کشد سوئے خدا می توان دیدن ازو روئے خدا ماچہ سان بندیم زان دلبر نظر ہمچو روئے او کجا روئے دِگر روئے من از نُورِ روئے او بتافت یافت از فیضش دل من ہرچہ یافت چوں دو چشمم کس نداند آن جمال جان من قربان آن شمس الکمال ہم چنین عشقم بروئے مصطفی دل پَرد چُون مرغ سوئے مصطفی تا مرا دادند از حسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و زبر منکہ می بینم رخ آن دلبرے جان فشانم گر دہد دل دیگرے ساقی من ہست آن جان پرورے ہر زمان مستم کند از ساغرے محو روئے اوشدست ایں روئے من بوئے او آید زِ بام و کوئے من بس کہ من در عشق او ہستم نہان من ہمانم من ہمانم من ہمان جان من از جان او یابد غذا از گریبانم عیان شد آن ذکا ۴۸۔فرقان کا نور خدا کی طرف کھینچتا ہے اس سے خدا کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں- ۴۹۔ہم اس معشوق سے اپنی آنکھیں کیونکر بند کر سکتے ہیں اس کے چہرہ جیسا خوبصورت اور کوئی چہرہ کہاں ہے- ۵۰۔میرا منہ اس کے منہ کے نور کی وجہ سے چمک اٹھا میرے دل نے جو کچھ بھی پایا اسی کے فیض سے پایا - ۵۱۔جس قدر میری آنکھیں اس کے حسن کو جانتی ہیں کوئی نہیں جانتا میری جان کمالات کے اس سورج پر قربان ہے- ۵۲۔ایسا ہی عشق مجھے مصطفی کی ذات سے ہے میرا دل ایک پرندہ کی طرح مصطفی کی طرف اُڑ کر جاتا ہے- ۵۳۔جب سے مجھے اس کے حسن کی خبر دی گئی ہے میرا دل اس کے عشق میں بے قرار رہتا ہے- ۵۴۔میں اس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں اگر کوئی اسے دل دے تو میں اس کے مقابلہ پر جان نثار کردوں- ۵۵۔وہی روح پرور شخص تو میرا ساقی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے- ۵۶۔یہ میرا چہرہ اس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اسی کی خوشبو آرہی ہے- ۵۷۔از بس کہ میں اس کے عشق میں غائب ہوں- میں وہی ہوں- میں وہی ہوں- میں وہی ہوں- ۵۸۔میری روح اس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریباں سے وہی سورج نکل آیا ہے۔