مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 422

تا مرا از قوم خود ببریدہ اند بہر تکفیرم چہا کوشیدہ اند افتراہا پیش ہرکس بردہ اند و از خیانتہا سخن پروردہ اند تا مگر لغزد کسے زاں افترا سادہ لوحے کافر انگارد مرا در رہ ما فتنہ ہا انگیختند بانصاریٰ رائے خود آمیختند کافرم خواندند از جہل و عناد این چنین کورے بدنیا کس مباد بخل و نادانی تعصب ہا فزود کین بجوشید و دوچشم شان ربود ما مسلمانیم از فضل خد مصطفی ما را امام و مقتدا اندرین دین آمدہ از ما دریم ہم برین از دار دنیا بگذریم آن کتاب حق کہ قرآن نام اوست بادۂ عرفان ما از جام اوست آں <mark>رسول</mark>ے کش محمد ہست نام دامن پاکش بدست ما مدام مہر او باشیر شد اندر بدن جان شد و باجان بدر خواہد شدن ۱۵۔جب سے لوگوں نے مجھے اپنی قوم سے کاٹ دیا ہے تب سے انہوں نے میرے کافر بنانے میں کتنی کتنی کوششیں کی ہیں- ۱۶۔ہر شخص کے روبرو افترا پردازیاں کیں اور خیانت کے ساتھ خوب باتیں بنائیں- ۱۷۔تا کہ کوئی تو اس افترا کی وجہ سے پھسل جائے اور بھولا آدمی مجھے کافر سمجھنے لگے- ۱۸۔انہوں نے ہمارے راستے میں فتنے کھڑے کیے اور عیسائیوں کے ساتھ ساز باز کی- ۱۹۔جہل وعداوت کی وجہ سے مجھے کافر کہا۔کاش دنیا میں اتنا اندھا کوئی نہ ہو- ۲۰۔بخل ونادانی نے تعصب کو بڑھایا اور کینہ بھڑک کر ان کی دونوں آنکھیں نکال لے گیا- ۲۱۔ہم خدا کے فضل سے مسلمان ہیں۔محمد مصطفی ہمارے امام اور پیشوا ہیں- ۲۲۔ہم ماں کے پیٹ سے اسی دین میں پیدا ہوئے اور اسی دین پر دنیا سے گزر جائیں گے- ۲۳۔خدا کی وہ کتاب جس کا نام قرآن ہے ہماری شراب معرفت اسی جام سے ہے- ۲۴۔وہ <mark>رسول</mark> جس کا نام محمد ہے اس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے- ۲۵۔اس کی محبت ماںکے دودھ کے ساتھ ہمارے بدن میں داخل ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی-