مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 383
اختیار کرتے جو رسالہ نورالحق کو ہی تدبّر سے دیکھتے اور لِلّٰہ خدمت کرتے اور غلطی پاتے تواس کو درست کردیتے اورعیسائی گروہ پررعب ڈالنے کے لئے کوئی تقریظ لکھتے۔نشست کا سامان نہیں اور جلدی سے یہ چند سطریں کھینچ دیں ہیں اور یہ خط میں نے ایک ساعۃ فرصت نکال کرلکھا ہے مگر ہمیشہ مجھے اپنے ہاتھ سے لکھنے کی فرصت نہیں اور میں نے کوئی کلمہ سخت آپ کو نہیں لکھا اور نہ کچھ رنج کیا اور نہ رنج کا مقام تھا۔اکثر لوگ کافر دجال بے ایمان کہتے ہیں بڑی برُی گالیاں نکالتے ہیں ان کی کچھ پرواہ نہیں کی جاتی معاملہ خدا تعالیٰ سے ہے۔آپ کا یہ فرمانا کہ میں نے کوئی نئی بات آپ کی کتابوں میں نہیں دیکھتی ورنہ میں اوّلُ المؤمنین میں ہوتا۔عزیز من! جماعۃ بنانے کی آرزو سے تومیں فارغ ہوں اور خدا تعالیٰ نے مدت سے ان خیالات سے میرا دل بھر دیا ہے میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھ کو تعظیم سے دیکھیں اورمیری شان زیادہ ہو اور میری نسبت کسی کمال کا یقین کریں خدا تعالیٰ کے الہام کوصرف تبلیغ کے طور پر میں نے ہر ایک کوپہنچا دیا ہے مگر میں اپنی پرستش کروانی نہیں چاہتا۔اگر آپ کے دل میں خدا تعالیٰ نیک بات ڈال دے تو آپ خطوط کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں ورنہ میں آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتا اگر آپ اپنے خیال بالمقابل تالیف کے فیصلہ کے لئے قادیان میں آویں تو اگرچہ ایسی باتوں سے میں دلی کراہت کرتاہوں تاہم مجھے منظور ہے شایدآپ کے لئے اس میں کچھ فائدہ ہو یہ فیصلہ ملاقات سے ہو سکتا ہے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب اسی جگہ موجود ہیں کئی دن سے آپ کاخط پہنچا ہوا ہے مگر میں درد سے بیمار رہا طاقت نہیں تھی آج ذرا افاقہ ہوا تو خط لکھا ہے مگر ڈاک روانہ ہو چکی ہے شائد تیسرے دن آپ کو خط ملے گا۔٭ ۳؍اپریل ۱۸۹۴ء خاکسار میرزا غلام احمدازقادیان ٭ الحکم نمبر۳۸ جلد۷ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۵ تا ۷