مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 46
مکتوب نمبر۱۰ژ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امۃ الرحمن کے معاملہ میں مجھے بہت حیرت ہے کوئی صورت خاطر خواہ ظاہر نہیںہوئی۔احمد نور نیک بخت آدمی ہے۔بہت مخلص ہے۔مگر وہ پردیسی ہے۔زبان پنجابی اور اُردو سے محض ناواقف ہے۔اس صورت میں اصول معاشرت میں پہلے ہی یہ نقص ہے کہ ایک دوسرے کی زبان سے ناواقف ہیں پھر وہ عنقریب ایک لمبے سفر کے لئے جاتے ہیں جوخطرناک زمین کابل کا سفر ہے معلوم نہیں کہ کیا ہو میں نے کئی جگہ کہہ دیا ہے اپنے اختیار میں نہیں ایسی جلدی نہیں چاہئے جس میں اور فساد پیدا ہو۔مرزا غلام احمد عفی عنہ (۱) ’’۱۹۰۴‘‘ بحرف انگریزی خط والی سیاہی سے مختلف سیاہی سے مرقوم ہے۔مکرم قاضی عبدالسلام صاحب فرماتے ہیں کہ معلوم نہیں کہ کب ’’۱۹۰۴‘‘ لکھا گیا۔غالباً والد صاحب مرحوم نے لکھا ہوگا۔حضرت قاضی ضیاء الدینؓ صاحب کی وفات ۱۹۰۴ء ہی میں ہوئی تھی۔(۲) محترم قاضی عبدالسلام صاحب تحریر کرتے ہیں کہ: ’’عاجز کی پھوپی صاحبہ کا اصلی نام فاطمہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بدل کر امۃ الرحمن تجویز فرمایا کہ فاطمہ نام کے ساتھ کچھ صعوبت کی زندگی کا اشارہ پایا جاتا ہے۔ان کی ولادت ۲۱؍ شعبان ۱۲۹۵ھ کو ہوئی اور وفات رتن باغ لاہور میں ۱۳؍ دسمبر۱۹۴۷ء کو ہوئی چوبرجی والے قبرستان میں حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ کے قریب دفن ہوئیں۔میں وہاں سے ہڈیاں وغیرہ نکال لایا اور ۲۸؍ مارچ۱۹۵۴ء کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں حضرت والد صاحبؓ کے قریب دفن کیا۔ان کی شادی غالباً ۱۹۰۶ء میں دارالمسیح میں منشی مہتاب علی صاحب سیاحؓ سکنہ ضلع جالندھر سے ہوئی تھی۔حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خود انہیں رخصت کیا تھا۔پھوپھی صاحبہ مرحومہ بیان کیا کرتی تھیں کہ رخصتانہ کے وقت جب حضرت اُمّ المؤمنین نے فکر سے کہا کہ یہ تو اب جاتی ہے تو حضور نے فرمایا فکر نہ کرو ہم اس کا’’ مُکلاوا‘‘ لمبا کریں گے یعنی خاوند سے واپس آئے گی تو زیادہ دیر تک اپنے پاس ٹھہرائیں