مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 47

گے۔منشی صاحبؓ نے ہمارے خاندان کے ایک نوجوان فیض اللہ نامی سے مباہلہ کیا تھا جو ایک سال کے اندر طاعون سے ہلاک ہو گیا تھا۔حضور نے تتمہّ حقیقۃ الوحی میں صفحہ ۱۶۵،۱۶۶ پر اس نشان کا ذکر فرمایا ہے۔منشی صاحبؓ ۱۹۲۱ء میں فوت ہوئے۔اولاد میں سے صرف میری بیوی مبارکہ بیگم زندہ ہیں۔باقی بچے بچپن میں فوت ہوگئے تھے‘‘۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ سیدی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خاکسار نے ایک عریضہ چراغ دین کی وفات پر حضور پُرنور کی خدمت میں ارسال کیا تھا اور اخبار میں چھپنے کے واسطے بھی لکھ دیا تھا اس کے جواب میں مفتی صاحب نے لکھا کہ چراغ دین کے متعلق چند باتیں تحقیقات سے دریافت کر کے لکھو جو کچھ مجھے دریافت کرنے سے معلوم ہوا میں نے تحریر کر دیا لیکن مجھے یہ وہم بھی نہ تھا کہ یہ خط اخبار میں چھاپا جائے گا۔میں نے اس خیال پر کہ شاید چراغ دین کے متعلق کوئی مضمون لکھا جائے گا وہ کل حالات صرف پرائیویٹ طور پر تحریر کئے تھے اور اس خیال سے تحریر کئے تھے کہ اس مضمون کے لئے مصالحہ درکار ہوگا اس لئے میں نے اس خط میں بعض باتیں بے تعلق بھی درج کر دی تھیں جن کا اصل غرض کے ساتھ کوئی لگاؤ نہ تھا۔اگر اخبار کے لئے مضمون لکھتا تو طرز تحریر بدل دیتا جیسے کہ پہلے خط میں مَیں نے قابلِ گرفت الفاظ کا لحاظ رکھا ہے ایسے ہی اس خط میں بھی ان باتوں کو مدِّنظر رکھتا۔میں نے تو صرف حضور کے واسطے لکھا تھا نہ اخبار کے لئے۔مفتی صاحب کی طرف اس لئے لکھا تھا کہ شاید مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی جابجا مفتی صاحب خط وکتابت کا کام کرتے ہیں کیونکہ حضرت کی خدمت میں جو خط لکھا تھا اس کا جواب مفتی صاحب نے دیا تھا۔اور نیز میں نے یہ اجازت نہیں دی کہ اس کو اخبار میں شائع کیا جاوے جب کہ پہلے خط میں دی تھی اور اگر میں لکھ بھی دیتا کہ اس کو شائع کیا جاوے تو بھی ایڈیٹر صاحب اور مینیجر صاحب کا فرض تھاکہ چھپنے سے پیشتر مضمون پر ہر ایک پہلو سے غور کر لیتے اور بعد قانونی تصحیح کے چھاپتے کیونکہ کرم الدین کے مقدمہ نے پورا پورا سبق سکھا دیا تھا۔جن مخالفوں نے ایک لئیم کے لفظ پر اس قدر زور مارا کیا اب وہ کچھ کم کریں گے؟ آئندہ