مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 228
سیدی و مولائی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دوتاریں ایک لیفٹنٹ گورنر کے نام اور ایک وائسرائے کے نام۔ملکہ معظمہ کی وفات پر اظہار افسوس کی لکھی ہیں۔صبح خلیفہ رشیدالدین صاحب کے ہاتھ بھیجی جائیں گی۔آٹھ روپے قریباً ان پر خرچ ہوں گے۔خاکسار ۲۳؍جنوری ۱۹۰۱ء محمد علی مکتوب نمبر۸۰ژ محبیّ اخویم ڈاکٹرصاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ افسوس شدّت سر دی اور زور زکام کی وجہ سے میں نہیں آسکا ابھی تک طبیعت درست نہیں۔یہ افسوس ہے کہ صبح آپ نے جانا ہے اور میں بیمار ہوگیا۔والسلام مبلغ روپیہ ارسال ہیں۔مرزا غلام احمد مکتوب نمبر۸۱ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی محبیّ عزیزی اخویم خلیفہ رشید الدین صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ادویہ یعنی صابون ہر دو قسم اور گولیاں لاہور سے مجھ کو پہنچ گئیں۔جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرًا۔دوا کا استعمال شروع ہو گیا ہے۔غالباً موسم کے باعث سے ہی یہ جوشِ خون ہے۔بہر حال اللّٰہ جلّ شانہٗ کی محافظت درکار ہے۔امید کہ آپ ہمیشہ اپنے حالات خیریت آیات سے مجھ کو مطلع فرماتے رہیں۔دیگر خیریت ہے۔والسلام ۱۱؍مارچ ۱۹۰۱ء خاکسار مرزا غلام احمدعفی عنہ