مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 229
مکتوب نمبر۸۲ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی محبیّ اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جو کہ آپ کو برخوردار محمود احمد کے رشتہ ٔ نسبت کی نسبت پہلے آپ کی خدمت میں لکھا گیا تھا کہ آپ کی بڑی لڑکی کی نسبت جو رشیدہ ہے۔میرا خیال ہے اب اس رشتہ پر محمود راضی معلوم ہوتا ہے۔اور گو ایسا ابھی الہامی طور پر اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔جس کے معلوم ہونے کے بارے میں مجھے خواہش ہے تا کوئی کام ہمارا مرضی الٰہی کے مخالف نہ ہو مگر محمود کی رضامندی کی ایک دلیل اس بات پر ہے کہ یہ امر غالباً واللہ اعلم جناب الٰہی کی رضامندی کے موافق انشاء اللہ ہوگا۔لہٰذا آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ کی یہ مرضی ہو اور اس میں کوئی ممانعت نہ ہو جائے جس کے مقابل پر سب ارادے کالعدم ہوجاتے ہیں تو اس صورت میں اور اس شرط سے آپ طیار اور مستعد رہیں کہ جب آپ کو مسنون طور پر نکاح کے لئے لکھا جائے تو آپ کو اس میں کوئی تأمّل اور تاخیر نہ ہو اور آپ خود بھی اس کام کے لئے چند ہفتہ تک استخارہ کرلیں کہ ہریک کام جو استخارہ اور خدا تعالیٰ کی مرضی سے کیا جاتا ہے وہ بھی نیک مبارک ہوتا ہے۔دوسرے میرا ارادہ ہے کہ اس نکاح میں انبیاء کی سنّت کی طرح سب کام ہو۔کوئی بدعت اور بیہودہ مصارف اور لغو رسوم اس نکاح میں نہ ہوں بلکہ ایسے سیدھے سادھے طریق پرجو خدا کے پاک نبیوں نے پسند فرمایا ہے نکاح ہوجاوے تا موجب برکات ہو۔باقی ہر طرح سے خیریت ہے۔امید کہ آپ عید کے دن تک قادیان رہیں گے بشرط رخصت۔باقی خیریت ہے۔۱۵؍ مارچ ۱۹۰۱ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد