مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 449

مکتوبات احمد ۳۰۹ جلد سوم جہاں گفته من بفهمی تمام جہاں ریزم اندر دلت این کلام میری بات کو تو پوری طرح کیونکر سمجھے کس طرح میں اپنے کلام کو تیرے دل میں ڈال دوں اگر جاہلے سر بتابد نے پند عجب نیست، گوخود به جهل است بند اگر کوئی جاہل نصیحت ماننے سے انکار کرے تو تعجب نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی جہالت میں پھنسا ہوا ہے ولے از تو دارم عجب اے اخی کہ فرزانہ باشی و نادان شوی لیکن اے بھائی مجھے تو تیری طرف سے حیرانی ہے کہ تو دانا ہو کر نادان بنتا ہے رَسُولے معظم که دادار جاں چراغ چراغ جهانش جهانش بگوید بگوید عیاں وہ رسول معظم جسے خدا نے صاف طور پر جہان کا چراغ فرمایا ہے چه چیز از تو او را حجاب است و بند چه دیوار داری کشیده بلند تو پھر کونسی چیز ہے جو تیری راہ میں بطور حجاب حائل ہے اور وہ کونسی اونچی دیوار ہے جو تیرے سامنے کھنچی ہوئی ہے مشو غره بر گفته یک کسے عقل و تدبر نہ دارد ہے اس نه شخص کے قول فریفتہ نہ جو عقل و دانش نہیں رکھتا یہ ہو ز ہر فاضلے بہرہ گیر اے جوان! بعقل و ادب باش پیر اے جوان! اے جوانمرد۔ہر عالم سے فائدہ اُٹھا اور عقل و ادب کی رو سے اے جوان تو بزرگ بن جا تقلید اہل کمال که خود اوفتند ناگہاں در ضلال اہل کمال کی تقلید کی راہ پر چل کہ آدمی خود رائی سے نا گہاں گمراہی میں جا پڑتا ہے میانہ گزیں باش و با اعتدال که یک سو روئی باشد از اختلال میانہ روی اور اعتدال کے طریقہ کو اختیار کر کہ یک طرفہ چلنا فساد کا موجب ہوتا ہے دو چشم کسے، چوں سلامت بود بیک چشم دیدن دیدن ندامت بود جس کی دونوں آنکھیں سلامت ہوں تو صرف ایک آنکھ سے دیکھنا اس کے لیے باعث ندامت ہوتا ہے تحقیق باید نظر پست داشت دیده معطل نباید گذاشت ہمیشہ تحقیق کی نظر چست رکھنی چاہیے اور آنکھوں کو بے کار نہیں چھوڑنا چاہیے رو