مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 450

مکتوبات احمد ۳۱۰ جلد سوم چو صوف و صفا در دل آمیختند مداد ، از سوادِ عیون ریختند صفائی کا صوف دل میں ملاتے ہیں تو آنکھوں کی سیاہی سے روشنی ڈالتے ہیں دو چیز است چوپان دنیا و دیں دل روشن و دیده دور بین دو چیزیں دین و دنیا کی محافظ ہیں ایک تو روشن دل دوسرے دُور اندیش نظر خدا راست آں بندگانِ کرام که از بهر شان میکند صبح و شام خدا کے نیک بندے ایسے بھی ہیں جن کے لیے خدا صبح و شام کو پیدا کرتا ہے بدنبال چشمے، چو جب وہ ہ کن انکھیوں ے بنگرند جہانے بدنبال خود سے ر دیکھتے ہیں تو ایک جہان کو اپنے پیچھے ے شند بھینچ لیتے ہیں گفتگو ہائے شاں چکد نور وحدت زِ رُو ہائے شان اثر هاست در ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے اور ان کے چہروں سے توحید کا نور ٹپکتا ہے در او شان به اظهار اظہار ہر خیر و شر نها دست حق خاصیت مستتر ان میں نیکی اور بدی کے اظہار کے لیے خدا تعالیٰ نے مخفی خاصیت رکھ دی ہے بگفتن اگر چه خدا اگر چہ کہنے کو وہ نیستند ولی از خدا ہم جدا نیستند خدا نہیں ہیں لیکن خدا ނ جدا بھی نہیں ہیں و طغیاں بود را که او ظل یزدان بود قیاسش بخود جهل جو شخص خدا کا ظل خدا کا ظل ہو اس کو اپنے پر قیاس کرنا جہالت اور سر کشی بروش ازاں سُو گر آید کتاب ازیں سو، بزودی بگویم جواب اس کے رد میں اگر کوئی کتاب شائع ہو تو میں اس طرف سے فوراً جواب دوں گا ولیکن بیاید یہ چاہیے کتا بے وہ کتاب تمام که باشد محیط ނ ما پیام پوری ہو اور تمام مقاصد پر حاوی ہو ز عہدے کہ کردم نگردم گہے نہ گردم رباید صبا زیں رہے میں کبھی اس عہد سے نہیں پھروں گا جو میں نے کیا ہے ہوا میری گرد کو بھی اس رستے سے نہیں ہٹا سکتی