مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 448
مکتوبات احمد ۳۰۸ جلد سوم خردمند نیکومنش طبع راست نتابد سر از آنچه حق و بجاست جو شخص عقل مند، صالح اور نیک فطرت ہے وہ حق اور سچائی سے روگردانی نہیں کرتا چو ببیند سخن را از حق پروری دگر مشو عاشق زشت رو زینهار در سخن کم کند داوری جب وہ حق شناسی سے بات پر غور کرتا ہے تو پھر وہ اس بات میں جھگڑا نہیں کرتا زینهار وگر خوب گم گردد از روزگار تو ہرگز کسی بدشکل کا عاشق نہ ہو چاہے دنیا سے حسین گم ہو جائیں مکافات دارد ہمہ کاروبار تو خار و خسک تا توانی مکار ہر بات کی جزا سزا مقرر ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہے تو کانٹے اور گو کھرو نہ بو زمین از زراعت تهی داشتن از تخم خار و خسک کاشتن زمین کو زراعت سے خالی رکھنا اس سے بہتر ہے کہ اس میں کانٹے اور گوکھرو بوئے جائیں ز ہے دولت من که فضل مجید مرا اندریں اعتقاد آفرید یہ میری خوش قسمتی ہے کہ خدا کے فضل نے مجھے اس اعتقاد پر پیدا کیا ہے وگر ز من نیک تر آنکه بعد از خبر نیارد بدل اعتقاد اور مجھ سے بھی اچھا وہ شخص ہے جو علم ہو جانے کے بعد دل میں اس کے خلاف اعتقاد نہ رکھے زبان را کند منع زاں ہر سخن که دور از ادب باشد و سوء وء ظن اور زبان کو ہر اس بات سے باز رکھے جو ادب کے خلاف اور بدظنی مدظنی ہو بدنیا ہمہ نوع سود و زیاں زیاں با غلب رسد از ممر زباں دنیا میں ہر قسم کا نفع کا نفع اور نقصان اکثر زبان کے راستے سے پیدا ہوتا ہے از سخن مایه یافتن مقرب شدن پایه یافتن تواں ہے کلام کے ذریعے دولت مل سکتی ہے نیز مقرب ہونا اور عزت پانا بھی ممکن هم از گفتگو با یکی آن بود که در گفتنش خطره جان بود اسی طرح بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے کہنے میں جان کا خطرہ ہو جاتا ہے