مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 24

مکتوبات احمد ۲۴ جلد سوم واقفیت رکھتا ہوں۔یہ لوگ مولوی عبداللہ غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے ملنے والوں میں سے تھے۔جہاں تک ظاہر کا تعلق ہے ان کی زندگیاں حتی الوسع شریعت کے مطابق تھیں۔صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ میں فدائیوں میں سے تھے اور ہر خدمت کو بجالانا اپنی سعادت اور خوش بختی سمجھتے تھے۔بعض حالتوں میں طبع کتب کے سلسلے میں یا اور ایسی ہی دینی ضرورتوں کے لئے حضرت اقدس ، منشی الہی بخش یا عبد الحق سے قرض بھی لے لیا کرتے تھے۔اس وقت یہ اپنے اخلاص میں بے نظیر تھے۔لیکن حضرت کے دعوائے میسجیت کی ابتداء تک ان کی یہی حالت چلی گئی۔منشی الہی بخش صاحب کو الہام ہونے کا دعوی تھا لیکن ان کی طبیعت میں خشونت اور ضد بے حد تھی۔رفتہ رفتہ ان میں تکبر اور رعونت پیدا ہونے لگی۔میں اس وقت ساری داستان نہیں لکھ سکتا اگر چہ میں پورے طور سے شاہد عینی کے طور پر اس سے واقف ہوں۔اس تکبر اور رعونت نے انہیں حق سے ڈور ڈالنا شروع کر دیا۔آخری مرتبہ وہ منشی عبد الحق کو ساتھ لے کر قادیان آئے اور حضرت اقدس سے ملاقات کی اور اپنے الہام وغیرہ سناتے رہے۔شام کے وقت بغیر کسی ارادے اور تجویز کے حضرت مخدوم الملۃ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ بلعم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں باوجود اپنی نیکی کے کیوں رڈ کر دیا گیا ؟ اس پر حضرت اقدس نے ایک تقریر کی لیکن منشی الہی بخش نے یہ سمجھا کہ مجھ کو بلعم باعور بنایا گیا۔اس غصے میں پیچ و تاب کھا تا ہوا آخر وہ یہاں سے چلا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہی ایام میں ضرورۃ الا مام“ شائع کی لیکن وہ بھی الہی بخش کے زیغ کا علاج نہ کر سکی بلکہ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا کا باعث ہو گئی۔آخر وہ اس سلسلے سے کٹ گیا اور اس نے مخالفت پر کمر باندھی۔مگر اس کا جو درد ناک انجام ہوا وہ بہت عبرت انگیز ہے۔اس کا کچھ ذکر میرے مکرم و محترم مخلص بھائی با بو فضل دین صاحب اوورسیئر نے ایک عینی شاہد کی حیثیت سے لکھا ہے۔میرا مقصد اس واقعہ کے بیان کرنے سے صرف اس قدر ہے کہ انسان اپنی خدمات پر نہ اترائے بلکہ مومن کا خاصہ ہے کہ جس قدر سے نیکی کی توفیق ملتی ہے اُسی قدر