مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 25
مکتوبات احمد ۲۵ وہ شرمندہ ہوتا ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ ان لوگوں نے حضرت کے ابتدائی زمانے میں بڑی خدمات کیں مگر خدا جانے کہ ان کے ساتھ ان کے نفس کی کیسی بُری ملونی تھی کہ ان کا خاتمہ قابل افسوس ہوا۔منشی عبد الحق کی طبیعت الہی بخش سے متغائر واقع ہوئی تھی مگر اسے اس کی دوستی نے تباہ کیا۔بابو محمد صاحب اخیر وقت تک سلسلے میں رہے گو اُن کو کچھ شکوک سلسلے کے بعض اخراجات کے متعلق پیدا ہو گئے تھے۔انہوں نے کبھی تعلق کو نہ تو ڑا اور اخیر وقت تک اسے قائم رکھا۔پس مقام خوف ہے۔انسان اپنی نیکی اور خدمت پر اترائے نہیں اور ہمیشہ حسنِ خاتمہ کے لئے دعا کرتا رہے۔اس مقصد سے میں نے اس عبرت انگیز واقعہ کولکھا۔(عرفانی) جلد سوم مکتوب نمبر ۳ مخدومی مکر می اخویم منشی احمد جان صاحب سلمہ اللہ تعالى - وَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔خداوند کریم کے احسانات کا شکر ادا نہیں ہوسکتا جس نے اس احقر العباد کے لئے ایسے دلی احباب میسر کیے جن کا وجود اس ناچیز کے لئے موجب عزت وفخر ہے۔خدا وند کریم آپ کو خوش و خرم رکھے اور آپ کو ان دلی تو جہات کا اجر بخشے۔یہ عاجز سخت نا کارہ اور حقیر ہے اور حضرت ارحم الراحمین کا سراسر منت اور احسان ہے کہ اس نالائق پر بغیر ایک ذرہ استحقاق کے تفضلات کثیرہ کی بارش کر رہا ہے۔قصور پر قصور پاتا ہے اور احسان پر احسان کرتا ہے اور ظلم پر ظلم دیکھتا ہے اور انعام پر انعام کرتا ہے۔فی الحقیقت وہ نہایت رحیم وکریم ہے۔ایسی زباں کہاں سے لاؤں جو اس کا شکر ادا کر سکوں۔یہ عاجز بیچ اور ذلیل اور بے بضاعت اور سراسر مفلس ہے۔اس نے خاک میں مجھے پایا اور اُٹھا لیا اور نالائق محض دیکھا اور میری پردہ پوشی کی۔میرے ضعف پر نظر کر کے