مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 285
مکتوبات احمد ۲۲۴ جلد سوم مکتوب نمبره بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مجی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ ۲۲ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مبلغ بائیں رو پے حسب تفصیل آپ کے خط کے مجھ کو پہنچ گئے مگر مجھ کو ان لفظوں سے سخت حیرانی ہوئی جو آپ نے اپنی نسبت استعمال کئے ہیں۔اس واسطے اطلاع دیں تا اگر کوئی امر قابل دعا ہو تو آپ کے لئے دعا کی جائے۔ایسے الفاظ استعمال کرنا منع ہے۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ " ۴ جنوری ۱۸۹۶ء ہے۔والسلام خاکسار غلام احمد آپ کا اقرار تھا۔ایسا ہی مجھ کو یاد ہے کہ کچھ مدت رخصت لے کر یہاں رہیں گے۔اللہ تعالیٰ یہ موقعہ کرے کہ آپ رخصت لے کر آویں۔مولوی عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ جن الفاظ کی طرف حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اشارہ فرمایا ہے۔وہ یہ ہے کہ مجھے اپنا نام ”عبداللہ لکھتے ہوئے اپنی حالت پر نظر کر کے شرم آئی اور میں نے اپنے خیال پر نظر کر کے خط کے نیچے اپنا نام بجائے عبداللہ لکھنے کے ” عبد الشیطان“ لکھ دیا جس پر حضور نے ہدایت فرمائی۔الزمر : ۵۴