مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 284

مکتوبات احمد ۲۲۳ جلد سوم مکتوب نمبر ۴۹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مجی اخویم میاں عبداللہ صاحب سنوری سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک مدت کے بعد آپ کا محبت نامہ پہنچا۔مقام شکر ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ہم وغم سے نجات بخشی۔وہ غفور ورحیم ہے اور آخر بندوں پر رحم کرتا ہے اور جو آپ نے اپنی غفلت کا حال لکھا ہے۔عزیز من! در حقیقت نہایت خوف کی جگہ ہے۔یہ زندگی جس کے ساتھ ہزار ہا بلائیں اور خوفناک مرضیں اور انواع واقسام کی مصیبتیں لگی ہوئی ہیں وہ بجز خدا تعالیٰ کے رحم کے بسر نہیں ہوسکتی۔پس ہر ایک رات اور دن میں خدا تعالیٰ سے ڈرنا اور اپنے اعضاء کو بدیوں سے بچانا جان گداز مصیبتوں سے بچنے کے لئے اس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔انسان کا وجود ایک طرفتہ العین کے لئے بھی اپنی زندگی کا مالک نہیں۔رات کو ہنستا سو دے اور دن کو روتا اُٹھے۔یہی دنیا کی وضع ہے۔جس کی پناہ سے ہر ایک دم گزرتا ہے۔اگر وہی ناراض ہو تو پھر کیا ٹھکانا ہے؟ مناسب کہ بہت استغفار کرتے رہیں اور اللہ جل شانہ کی عظمت اپنے دل میں بٹھا وہیں اور میں نے آپ کے تقوی اور استقامت ایمانی اور صراط مستقیم کے لئے دعا کی ہے۔اللہ جل شانہ قبول فرما دے اور کبھی کبھی اگر رخصت مل سکے تو ضرور ملا کریں۔رسالہ ”نور القرآن جواب چھپا ہے شاید آپ کو پہنچا ہو گا اور ایک اور کتاب نہایت لطیف چھپ رہی ہے۔چونکہ عمر کا اعتبار نہیں معلوم نہیں کہ کس وقت اس کا ئنات عائم سے گزر جائیں اس لئے یہی دعا اور مدعا ہے کہ دینی خدمات حسب المراد ہم سے صادر ہوں۔باقی سب خیریت ہے۔۱۴ جون ۱۸۹۵ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ