مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 216

مکتوبات احمد ۱۵۵ جلد سوم اس قدر آزادی دی جائے تو پھر انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی بلکہ خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے صرف آسمان سے بغیر توسط کسی انسان کے قرآن شریف نازل ہو سکتا تھا۔پس جبکہ یہ سلسلہ ہدایت الہی کا انسانی توسط سے ہی شروع ہوا ہے اور توسط ان لوگوں کا جو خدا سے آنکھیں پاتے ہیں اور خدا سے دل پاتے ہیں اور خدا سے ہدایت پاتے ہیں۔پس اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہی طریق قیامت تک جاری رہے گا اسی کی طرف اشارہ وہ حدیث کرتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر مجدد مبعوث ہو گا اور اس کی طرف یہ آیہ کریمہ اشارہ فرماتی ہے۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ، یعنی خدا فرماتا ہے کہ میں نے اس دین کی محافظت اپنے ذمہ لی ہے۔پس جبکہ خدا کے ذمہ اس دین کی محافظت ہے تو اس سے سمجھا جاتا ہے کہ محافظت کے بارے میں جو قدیم قانون خدا کا ہے اسی طریق اور منہاج سے وہ دین اسلام کی محافظت کرے گا۔وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلا ا اور وہ طریق مجددین و مصلحین ہے۔غرض موحدین نے تو حد سے زیادہ بے قیدی اور آزادی کا راستہ کھول دیا ہے بغل میں مشکوۃ یا بخاری یا مسلم چاہئے اور عربی خوانی کی استعداد۔پھر ایسے شخص کو حسب رائے موحدین کسی امام کی ضرورت نہیں۔اور فرقہ مقلدین اس قدر تقلید میں غرق ہیں کہ وہ تقلید اب بت پرستی کے رنگ میں ہو گئی ہے۔غیر معصوم لوگوں کے اقوال حضرت سید نا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے برابر سمجھے جاتے ہیں۔صد ہا بدعات کو دین میں داخل کر لیا ہے۔قراءۃ فاتحہ خلف الامام اور آمین بالجبر پر یوں چڑتے ہیں جس طرح ہمارے ملک کے ہند و بانگ نماز پر۔خوب جانتے ہیں کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِالْفَاتِحَةِ حدیث صحیح ہے اور قرآن کریم فاتحہ سے ہی شروع ہوا ہے مگر پھر اپنی ضد کو نہیں چھوڑتے۔پس اس تنازع میں فیصلہ یہ ہے کہ اہل بصیرت اور معرفت اور تقویٰ اور طہارت کے قول اور فعل کی اس حد تک تقلید ضروری ہے جب تک کہ بہداہت معلوم نہ ہوں اس شخص نے عمداً یا سہواً قرآن اور احادیث صحیحہ نبویہ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہر ایک نظر دقائق دین تک پہنچ نہیں سکتی۔لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔مُطَهَّرُ کا دامن پکرنا ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ شرط ہے کہ وہ شخص جس کی ان شرطوں کے ساتھ تقلید کی جاوے زندہ ہو تا معضلات دین جو حالات موجودہ زمانہ کے موافق پیش آویں اس سے حل کر الحجر: ١٠ ٢ الاحزاب :٦٣