مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 215
مکتوبات احمد ۱۵۴ جلد سوم مکتوب نمبر۳ مقلدوں اور غیر مقلدوں کی نسبت حضرت امام الائمہ حکم و عدل کا فیصلہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ از طرف عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافاه الله وایده نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا چونکہ حق میں تلخی کا ہونا ایک لازمی امر ہے۔مجھے امید نہیں کہ میرے اس جواب پر ہر ایک راضی ہو سکے۔اس میں کیا شک ہے کہ مدار نجات و رضامندی حضرت باری عز اسمۂ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله الخ لا لیکن اس دوسری بات میں بھی کچھ شک نہیں کہ آج کل جو دو گروہ اس ملک میں پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک گروہ اہل حدیث یا موحد کہلاتے ہیں اور دوسرے گروہ اکثر حنفی یا شافعی وغیرہ ہیں اور دونوں گروہ اپنے تئیں اہل سنت سے موسوم کرتے ہیں ان میں سے ایک گروہ نے تفریط کی راہ لی اور دوسرے گروہ نے افراط کی اور اصل منشاء نبوی کو یہ دونوں گر وہ اس تفریط وافراط اور غلو کی وجہ سے چھوڑ بیٹھے ہیں۔تفریط کا طریق موحدین نے اختیار کیا ہے۔اس گروہ نے ہر ایک طبقہ کے مسلمان اور ہر ایک مرتبہ کی عقل کو اسقدر آزادی دے دی ہے جس سے دین کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے اور درحقیقت اسی آزادی سے فرقہ نیچر یہ بھی پیدا ہو گیا ہے جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت سیدنا نبی علیہ السلام اور خدا کے پاک کلام کی باقی نہیں رہی۔جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ اور ایسا ہی حدیث نبوی میں بھی ہے کہ تم دیکھ لیا کرو کہ اپنے دین کو کس سے لیتے ہو پس یہ کیونکر ہو سکے کہ ہر ایک شخص جس کو ایک کامل حصہ تقویٰ کا بھی حاصل نہیں اور نہ وہ بصیرت اس کو عطا کی گئی ہے جو پاک لوگوں کو دی جاتی ہے۔وہ جس طرح چاہے قرآن کے معنی کرے اور جس طرح چاہے حدیث کے معنی کرے بلکہ وہ بلاشبہ ضَلُّوا وَ اَضَلُّوا کا مصداق ہوگا۔اگر یہی خدا تعالیٰ کا بھی منشا تھا کہ تمام لوگوں کو ال عمران : ۳۲ ۲ الواقعة : ۸۰