مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 13

مکتوبات احمد ۱۳ جلد سوم احباب لو دہانہ کے نام لود ہانہ کو تاریخ سلسلہ میں بہت بڑی اہمیت ہے اور خدا تعالیٰ کی اس وحی میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئی، لودہانہ کا ذکر ہے چنانچہ ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ء کو جو اشتہار آپ نے مختلف اخبارات میں اور علیحدہ شائع کیا اور ریاض ہند پریس امرتسر میں طبع ہوا۔اس میں ارشاد ہوتا ہے۔میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو قبولیت کی جگہ دی اور تیرے سفر کو ( جو ہوشیار پور اور لودہانہ کا سفر ہے ) تیرے لئے مبارک کر دیا۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت اقدس نے با علام الہی سلسلہ بیعت شروع کیا۔چنانچہ ۴ مارچ ۱۸۸۹ء کو جو اعلان آپ نے بیعت کرنے والوں کے لئے شائع کیا، اس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ تاریخ ھذا سے ۲۴ / مارچ ۱۸۸۹ ء تک یہ عاجز لود بہانہ محلہ جدید میں مقیم ہے۔اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لودہا نہ میں ۲۰ تاریخ کے بعد آجاویں۔یہ مکان جہاں بیعت ہوئی حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کے مکان کا ایک حصہ تھا اور اب وہاں دار البیعت کے نام سے سلسلہ کی ملکیت میں ایک شاندار عمارت ہے اور ۲۳ / مارچ ۱۹۴۴ء کو حضرت مصلح موعوداً يَّدَهُ اللهُ الْوَدُودُ کے دعوئی کے اعلان واظہار میں جلسہ ہو چکا ہے۔پھر لاود ہانہ کو یہ بھی فضلیت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ براہین احمدیہ کے آغاز میں اسی شہر کے ایک فرد میر عباس علی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اشاعت براہین کے لئے کھڑا کر دیا۔افسوس ہے کہ ان کا انجام کسی پنہانی معصیت کی وجہ سے ارتداد پر ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان بھی پہلی مرتبہ لودہانہ ہی سے کیا اور لو د ہا نہ ہی میں وہ عظیم الشان مباحثہ ہوا ، جو مباحثہ لو د ہا نہ کے نام سے الْحَق میں شائع ہوا جس میں مولوی محمد حسین بٹالوی کو خطر ناک شکست ہوئی اور جس میں اس کی علمی اور اخلاقی پردہ دری ہوئی۔لود ہا نہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعویٰ سے پیشتر لودہا نہ والوں کی متواتر درخواستوں اور التجاؤں پر ۱۸۸۳ء میں تشریف لائے اور محلہ صوفیاں میں ڈپٹی امیر علی صاحب کے