مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 10

مکتوبات احمد جلد سوم اور نماز اپنی اُسی پہلی حالت پر ہی چاہئے کہ نماز میں خدا تعالیٰ سے ہدایت چاہیں اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا تکرار کریں خواہ گنجائش وقت کے ساتھ وہ تکرار نو مرتبہ تک پہنچ جائے سجدہ میں اکثر یاحی یا قیوم۔۔۔۔الخ بتما متر عجز کہا کریں مگر نماز کی قنوت میں عربی عبارتیں ضروری نہیں۔قنوت اُن دعاؤں کو کہتے ہیں جو مختلف وقتوں میں مختلف صورتوں میں پیش آتی ہیں سو بہتر ہے کہ ایسی دعائیں اپنی زبان میں کی جائیں۔قرآن کریم اورا دعیہ ماثورہ اسی طرح پڑھنی چاہئیں جیسا کہ پڑھی جاتی ہیں مگر جدید مشکلات کی قنوت اگر اپنی زبان میں پڑھیں تو بہتر ہے تا اپنی مادری زبان نماز کی برکت سے بے نصیب نہ رہے۔قنوت کی دعاؤں کا التزام حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے بعض پانچ وقت کے قائل ہیں اور بعض صبح سے مخصوص رکھتے ہیں اور بعض ہمیشہ کے لئے اور بعض کبھی کبھی ترک بھی کر دیتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ قنوت مصائب اور حاجات جدیدہ کے وقت یا نا گہانی حوادث کے وقت ہوتا ہے چونکہ مسلمانوں کے لئے یہ دن مصائب اور نوازل کے ہیں اس لئے کم سے کم صبح کی نماز میں قنوت ضروری ہے۔قنوت کی بعض دعائیں ماثور بھی ہیں مگر مشکلات جدیدہ کے وقت اپنی عبارت میں استعمال کرنی پڑیں گی۔غرض نماز کو مغز دار بنانا چاہئے جود عا اور تسبیح تہلیل سے بھری ہوئی ہو۔اور دعا اور استغفار اور درود شریف کا التزام رکھنا چاہئے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ سے نیک کاموں اور نیک خیالوں اور نیک ارادوں کی توفیق مانگنی چاہئے کہ بجز اس کی توفیق کے کچھ نہیں ہو سکتا۔یہ ہستی سخت نا پایدار اور بے بنیاد ہے غفلت اور غافلا نہ آسائش کی جگہ نہیں۔ہر یک سال اپنے اندر بڑے بڑے انقلاب پوشیدہ رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ سے عافیت مانگنی چاہئے اور ہراساں اور ترساں رہنا چاہئے کہ وہ ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے اگر چہ وہ گنہگا رہی ہوں اور چالاکوں اور خود پسندوں اور ناز کرنے والوں پر اُس کا قہر نازل ہوتا ہے اگر چہ وہ کیسے ہی اپنے تئیں نیک سمجھتے ہوں۔والسلام ۲۱ / جنوری ۱۸۹۲ء البدر نمبر ۳۰ جلد ۲ مورخه ۱۴/ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۳۹ خاکسار غلام احمد از قادیان