مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 9
مکتوبات احمد جلد سوم مکتوب حضرت امام آخر الزمان حضرت میر ناصر نواب صاحب کے نام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکرمی اخویم میر صاحب سلمہ <mark>اللہ</mark> تعالیٰ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ <mark>اللہ</mark> وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا انشاء <mark>اللہ</mark> القدر تمام مراتب دافع الوساوس کے حصہ دوم میں بتفصیل آجائیں گے۔حصہ اول اب قریب الاختتام ہے صرف ایک خط چھپنا باقی ہے جو پیرزادوں اور سجادہ نشینوں کی <mark>طرف</mark> لکھا گیا ہے اور بلحاظ مشایخ عرب کے وہ عربی میں خط ہے اور فارسی میں مولوی عبدالکریم صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔جو آپ نے اپنے عملی طریق کے لئے دریافت کیا ہے وہ یہی امر ہے کہ رسول <mark>اللہ</mark> صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے <mark>حقیقی</mark> <mark>اتباع</mark> کی <mark>طرف</mark> <mark>رغبت</mark> کریں۔رسول <mark>اللہ</mark> صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے جن اعمال پر نہایت درجہ اپنی محبت ظاہر فرمائی ہے وہ دو ہیں ایک نماز اور ایک جہاد نماز کی نسبت آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قُرَّةُ عَيْنِي فِی الصَّلوةِ یعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے اور جہاد کی نسبت فرماتے ہیں کہ میں آرزو رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں۔سواس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دین متین اسلام کی خوبیاں دُنیا میں پھیلا دیں۔آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں۔یہی جہاد ہے جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دُنیا میں ظاہر کرے۔