مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 145
مکتوبات احمد ۱۳۷ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر ۶۱ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ جو غم اور مصیبت کے صدمہ سے بھرا ہوا تھا مجھ کو لا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔چونکہ خدا تعالیٰ جبکہ کوئی مصیبت نازل کرتا ہے تو بعد اس کے کوئی راحت بھی پہنچاتا ہے۔اس لئے اس کے رحم اور کرم سے کسی حالت میں نومید نہیں ہونا چاہئے اور ساتھ ہی تو بہ اور استغفار بہت کرنا چاہئے کیونکہ بعض مصائب بعض گناہوں کے سبب سے بھی ظہور میں آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے۔چاہے تو ایک بیٹے کی جگہ دین ابیٹے دے دے وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔آپ کی نومیدی کی عمر نہیں ہے۔ہم نے بچشم خود دیکھا ہے کہ نوے برس تک جن کی عمر تھی ان کے لڑکے پیدا ہو گئے اور ساتھ ہی پینسٹھ برس تک عورتوں کی بھی اولاد ہوسکتی ہے۔ہاں جب یہ خیال آتا ہے کہ کس قدر فرقان الرحمن کی پرورش کے لئے آپ نے محنت اٹھائی تھی اور کیا کچھ امنگ اور آرزوئیں تھیں تو دل پر صدمہ پہنچتا ہے لیکن ایسی مصیبتیں ہر یک کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔خدا تعالیٰ پر تو کل کرنے والے آخر اپنی مراد کو پالیتے ہیں۔میرے ہمیشہ خیال میں رہا ہے کہ یہ سفر ہی منحوس تھا۔آپ کو ایسے لوگوں سے تعلقات کرنے پڑے جو سچائی اور راستبازی کے دشمن ہیں اور ہر یک مکر اور فریب کو حلال سمجھتے ہیں۔انسان کا قاعدہ ہے کہ تعلق ہونے کے بعد کئی ٹھوکروں میں مبتلا ہو جاتا ہے سو میں اسی لئے ڈرتا ہوں کہ یہ خدا کی طرف سے ایک سرزنش نہ ہو۔پاکوں اور مقدسوں کو بھی کبھی مصیبت آ جاتی ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ لڑکے مر گئے مگر ساتھ اس کے صبر جمیل تھا ، کوئی جزع فزع نہ تھا۔اسی واسطے لکھا ہے کہ مصیبت دو قسم کی ہے (۱) ایک ترقی درجات کی مصیبت جو نبیوں اور تمام راستبازوں پر آتی ہے (۲) اور دوسری جزاء السیئات کی مصیبت جو انسان پر گناہ اور غفلت کی حالت میں آتی ہے اور غم کے ساتھ دیوانہ بنا دیتی ہے۔بہر حال تو بہ اور استغفار کے ساتھ وہ مصیبت جاتی رہتی ہے اور خدا تعالیٰ نعم البدل عطا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔بجز خدا کی طرف جھکنے کے کوئی چارہ نہیں۔دُنیا کی