مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 87

مکتوبات احمد ۸۷ جلد دوم حکیم فضل دین صاحب اور حکیم فضل دین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب بھی ساتھ تشریف لے آویں تو بہت خوب ہوگا ۔ آں مخدوم اپنی طرف سے ان دونوں صاحبوں کو اطلاع دیں کیونکہ گاہ گاہ ملاقات کا ہونا ضروری ہے ۔ زندگی بے اعتبار ہے۔ زیادہ خیریت ہے ۔ ور جولائی ۱۸۸۹ء مکتوب نمبر ۵۵ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ مخدومی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ دنیا جائے ترڈ دو حزن و مصیبت و غم ہے نہ ایک کے لئے بلکہ سب کے لئے جس کے ابتداء میں طفلی و بیچارگی اور آخر میں پیرانہ سالی و شخوصیت (اگر عمر طبعی تک نہ پہنچی ) اور سب سے آخرموت ( نانگ برآمد فلاں نہ ہاند ) اس میں پوری پوری خوشی و راحت کا طلب کرنا غلطی ہے رابعہ بصری رضی اللہ عنھا کا قول ہے کہ میں نے اپنے لئے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ اصل حصہ دنیا میں میرے لئے غم و مصیبت ہے ۔ اور اگر کبھی خوشی پہنچ جائے تو یہ ایک زائد امر ہے جس کو میں اپنا حق نہیں سمجھتی ۔ تو مومن کو مرد میدان بن کر اس دار فانی سے تلخیاں اور ترشیاں سب اُٹھانی چاہئیں ۔ ہمارا وجود اپنا اور اماموں سے کچھ انوکھا نہیں بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ لذت وانس وشوق وراحت طلب الہی میں تب ہی محسوس ہوتی ہے کہ جب حضرت ایوب کی طرح منتون وصابر ہو کر یہ کہیں کہ میں ننگا آیا اور ننگا ہی جاؤں گا ۔ دوست از مفلس شدیم برایه نشاندیم درد خبيث شیطان از مفلسان خواه فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ كُونُوا لَهُ مَنْ كَانَ اللَّهُ ـ والسلام على من اتبع الهدى تاریخ ندارد الحکم ۳ رفروری ۱۸۹۹ء صفحه ۳ چه