مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 86

وغیرہ کا جواب لکھا ہے یا وہ اور سوال تھے۔والسلام ۲۹؍ جون ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر۵۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔بلاشبہ کلام الٰہی سے محبت رکھنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیّبات سے عشق پیدا ہونا ، اہل اللہ کے ساتھ حب صافی کا تعلق حاصل ہونا یہ ایک ایسی بزرگ نعمت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص اور مخلص بندوں سے ملتی ہے اور دراصل بڑی بڑی ترقیات کی یہی بنیاد ہے۔اور یہی ایک تخم ہے جس سے بڑا ایک درخت یقین اور معرفت اور قوتِ ایمانی کا پیدا ہوتا ہے اور محبت ذاتیہ اللہ جلّشانہٗ کا پھل اس کو لگتا ہے۔فالحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ۔کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ نعمت جو رأس الخیرات ہے، عطا فرمائی ہے پھر بعد اس کے جو کسل اور قصور بجا آوری اعمالِ حسنہ میں ہووہ بھی انشاء اللہ القدیر ان حسناتِ عظیمہ کے جذبہ سے دور ہو جائے گا۔ ۱؎ آپ کی ملاقات کا بہت شوق ہے۔جیسے آپ کے اخلاص نے بطور خارق عادت اس زمانہ کے ترقی کی ہے۔ویسا ہی یہ جوش حب لِلّٰہِ کا آپ کے لئے اور آپ کے ساتھ بڑھتا گیا اور چونکہ خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس درجہ اخلاص میں آپ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی شریک ہو۔اس لئے اکثر لوگوں کے دلوں پر جو دعویٰ تعلق رکھتے ہیں خدا تعالیٰ نے فیض وارد کئے اور آپ کے دل کو کھول دیا۔ھذا فضل اللّٰہ و نعمتہ یعطی من یشاء و یھدی من یشاء ویضل من یشاء۔حامد علی سخت بیمار ہوگیا تھا۔خدا تعالیٰ نے اس کو دوبارہ زندگی بخشی ہے۔جس وقت آپ تشریف لاویں اگر