مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 82
مکتوب نمبر۵۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچ کر بہت خوشی ہوئی۔خدا تعالیٰ آپ میں اور آپ کی نئی بیوی میں اتحاد اور محبت زیادہ سے زیادہ کرے اور اولاد صالح بخشے۔آمین ثم آمین اگر پرانے گھر والوں نے کچھ نامناسب الفاظ منہ سے نکالے ہیں تو آپ صبر کریں۔پہلی بیویاں ایسے معاملات میں بباعث ضعف فطرت بدظنی کو انتہا تک پہنچا کر اپنی زندگی اور راحت کا خاتمہ کر لیتی ہیں۔واحدہ لاشریک ہونا خدا کی تعریف ہے۔مگر عورتیں بھی شریک ہرگز پسند نہیں کرتی ہیں۔ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میرے ہمسایہ میں ایک شخص اپنی بیوی سے بہت کچھ سختی کیا کرتا تھا اور ایک مرتبہ اس نے دوسری بیوی کرنے کا ارادہ کیا تب اس بیوی کو نہایت رنج پہنچا اور اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں نے تیرے سارے دکھ سہے مگر یہ دکھ مجھ سے نہیں دیکھا جاتا کہ تو میرا خاوند ہو کر اب دوسری کو میرے ساتھ شریک کرے۔وہ فرماتے ہیں کہ ان کے اس کلمہ نے میرے دل پر نہایت دردناک اثر پہنچایا۔میں نے چاہا کہ اس کلمہ کے مشابہ قرآن شریف میں پاؤں، سو یہ آیت مجھے ملی۔ ۱؎ یہ مسئلہ بظاہر بڑانازک ہے، دیکھا جاتا ہے کہ جس طرح مرد کی غیرت نہیں چاہتی کہ اس کی عورت اس میں اور اس کے غیر میں شریک ہو۔اسی طرح عورت کی غیرت بھی نہیں چاہتی کہ اس کا مرد اس میں اور اس کے غیر میں بٹ جاوے۔مگر میں خوب جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم میں نقص نہیں ہے اور نہ وہ خواص فطرت کے برخلاف ہے۔اس میںپوری تحقیق یہی ہے کہ مرد کی غیرت ایک حقیقی و کامل غیرت ہے جس کا انفکاک واقعی لاعلاج ہے۔مگر عورت کی غیرت کامل نہیں بالکل مشتبہ اور زوال پذیر ہے۔اس میں وہ نکتہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا نہایت معرفت بخش نکتہ ہے کیونکہ جب حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست نکاح