مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 83

پر عذر کیا کہ آپ کی بہت بیویاں ہیں اور آئندہ بھی خیال ہے اور میں ایک عورت غیرت مند ہوں جو دوسری بیوی کو دیکھ نہیں سکتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تیرے لئے دعا کروں گا کہ تا خدا تعالیٰ تیری یہ غیرت دور کر دے اور صبر بخشے۔سو آپ بھی دعا میں مشغول رہیں۔نئی بیوی کی دلجوئی نہایت ضروری ہے کہ وہ مہمان کی طرح ہے۔مناسب ہے کہ آپ کے اخلاق اس سے اوّل درجہ کے ہوں اور ان سے بے تکلف مخالطت اور محبت کریں اور اللہ جلّشانہٗ سے چاہیں کہ اپنے فضل و کرم سے ان سے آپ کی صافی محبت و تعشق پیدا کر دے کہ یہ سب امور اللہ جلّشانہٗ کے اختیار میں ہیں۔اب اس کے نکاح سے گویا آپ کی نئی زندگی شروع ہوئی ہے اور چونکہ انسان ہمیشہ کے لئے دنیا میں نہیں آیا۔اس لئے نسلی برکتوں کے ظہور کے لئے اب اسی پیوند پر امیدیں ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کے لئے یہ بہت مبارک کرے۔میں نے اس محلہ میں خاص صاحب اسرار و واقف لوگوں سے اس لڑکی کی بہت تعریف سنی ہے کہ بالطبع صالحہ، عفیفہ و جامع فضائل محمودہ ہے۔اس کی تربیت تعلیم کے لئے بھی توجہ رکھیں اور آپ پڑھایا کریں کہ اس کی استعدادیں نہایت عمدہ معلوم ہوتی ہیں اور اللہ جلّشانہٗ کا نہایت فضل اور احسان ہے کہ یہ جوڑ بہم پہنچایا۔ورنہ اس قحط الرجال میں ایسا اتفاق محالات کی طرح ہے۔خط سے کچھ معلوم نہیں ہوا کہ ۲۰؍مارچ ۱۸۸۹ء تک رخصت ملے گی یا نہیں۔اگر بجائے بیس کے بائیس مارچ کو آپ تشریف لاویں یعنی یوم یکشنبہ میں اس جگہ ٹھہریں تو بابو محمد صاحب بھی آپ سے ملاقات کریں گے۔یہ عاجز ارادہ رکھتا ہے کہ ۱۵؍ مارچ ۱۸۸۹ء کو دو تین روز کے لئے ہوشیار پور جاوے اور ۱۹؍ مارچ ۱۸۸۹ء یا ۲۰؍ مارچ کو بہرحال انشاء اللہ واپس آ جاؤں گا۔والسلام۔صاحبزادہ افتخار احمد اور ان کے سب متعلقین بخیر و عافیت ہیں۔کل سات روپیہ اور کچھ پارچہ میرے لئے دیئے تھے جو ان کے اصرار سے لئے گئے۔٭ خاکسار غلام احمد نوٹ: اس خط پر کوئی تاریخ نہیں۔مگرمضمون خط سے مارچ ۱۸۸۹ء کے پہلے ہفتہ کا معلوم ہوتا ہے۔(عرفانی)