مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 80

مکتوبات احمد ۸۰ جلد دوم اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے پسر متوفی کے اپنے الہام میں کئی نام رکھے ۔ ان میں سے ایک بشیر اور ایک عنمو ائیل اور ایک خدا با ماست و رحمت حق اور ایک ید الله بجلال و یــد و جمال ہے اور اس کی تعریف میں ایک یہ الہام ہوا ۔ جَاءَكَ النُّورُ وَهُوَ أَفْضَلُ مِنْكَ یعنی کمالات استعداد یہ میں وہ تجھ سے افضل ہے اور چونکہ اس پسر متوفی کو اس آنے والے فرزند سے تعلقات شدید تھے اور اس کے وجود کے لئے یہ بطور ا رہا تھا ۔ اس لئے الہامی عبارت میں جو ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں درج تھی ۔ ان دونوں کے ذکر کو ایسا مخلوط کیا گیا کہ گویا ایک ہی ذکر ہے۔ ایک الہام میں اس دوسرے فرزند کا نام بھی بشیر رکھا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا۔ یہ وہی بشیر ہے جس کا دوسرا نام محمود ہے جس کی نسبت فرمایا ۔ وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن اور احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ یہی حقیقت حال ہے جو میں نے آپ کے لئے لکھی ۔ وَأَفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ الراقم ۴ دسمبر ۱۸۸۸ء خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب ۔ ۲۹ ربیع الاول ۱۳۰۶ھ نوٹ: اس خط کی نقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ اور کپورتھلہ کے بعض احباب اور بعض اخص صحابہ کو بھجوائی تھیں ۔ اور محترم عرفانی صاحب نے خط مکتوبات جلد پنجم حصہ پنجم میں شامل فرمایا تھا۔ ( ناشر ) ا تذکرہ صفحہ ۱۲۰ ۔ ایڈیشن چہارم حمد تشحیذ الاذہان اکتوبر ۱۹۰۸ صفحه ۴۱۱ تا ۴۴۰ المومن: ۴۵