مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 76

کرتے رہے حالانکہ ان غلطیوں سے ان کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا۔اجتہادی غلطی جیسے کبھی علماء ظاہر کو پیش آجاتی ہے۔ایسے ہی علماء باطن کو بھی پیش آجاتی ہے اور پاک دل آدمی ان امور سے ذرا بھی متغیر نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کوایسی حالت میںکب چھوڑتا ہے اور اپنے انوار کو صرف اسی حد تک کب ختم کردیتا ہے بلکہ بعض وقت کی یہ اجتہادی غلطی خلق اللہ کے لئے موجب نفع عظیم کے ہوتی ہے اور جب فرستادۂ الٰہی کی سچائی کی کرنیں چاروں طرف سے کھلنی شروع ہوتی ہیں تب سالک کے لئے یہ اجتہادی غلطی ایک دقیق معرفت کا نکتہ معلو م ہوتا ہے۔جس شخص کو خدا تعالیٰ سے کچھ غرض نہیں اور معرفت الٰہی سے کچھ واسطہ نہیں اور اس کا دین محض ہنسی اور ٹھٹھا ہے اور اس کا مَبْلَغِ علم صرف موٹی باتوں اور سطحی خیالات تک محدود ہے۔ایسے شخص کی نکتہ چینی اور اعتراضات کیا حقیقت رکھتے ہیں؟ وہ حباب کی طرح جلد گم ہوجاتے ہیں اور نور حقانیت اور برہان صداقت جب پورا پورا پر تووہ د کھلاتے ہیں تو ایسے ظلماتی اعتراضات کہ ایک غبی اور مُردہ دل کے منہ سے نکلتے ہیں، ساتھ ہی ایسے معدوم ہوجاتے ہیںکہ گویا کبھی ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے۔محجوب لوگ جیسے خدا تعالیٰ کو شناخت نہیںکرسکتے ویسے ہی اس کے خالص بندوں کی شناخت کرنے سے قاصر ہیںاور ایسوں کو اپنے ایمان اور اپنی معرفت کو پورا کرنے کی پرواہ بھی نہیںہوتی۔وہ کبھی آنکھ اٹھا کرنہیں دیکھتے کہ ہم دنیا میںکیوںآئے اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے جس کو ہمیںحاصل کرنا چاہئے۔وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر مذہب کے پابند رہتے ہیں اور صرف رسمی جوش سے قوم کے حامی یا مذہب کے ریفارمر بن بیٹھے ہیں۔وہ کبھی اس طرف خیال بھی نہیںکرتے کہ سچا یقین حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے اور کبھی اپنی حالت کو نہیں ٹٹولتے کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے اور تعجب یہ ہے کہ وہ آپ تو حق کے بھوکے اور پیاسے نہیں ہوتے۔بایں ہمہ یہ مرض ایسی طبیعت ثانی کا حکم ان میںپیدا کر لیتی ہے کہ وہ اس مرض کو صحت سمجھتے ہیں اور ایسا اس کی تائید میںزور دیتے ہیں کہ اگر ممکن ہوتو برگزیدوں کو بھی اپنی اس حالت کی طرف کھنیچ لائیں۔سو ایسوں کے اعتراضات کچھ چیز نہیںہوتے۔ہمارے نزدیک اگر وہ مسلمان بھی کہلاویں بلکہ مولوی اور عالم کے نام سے بھی موسوم کئے جائیں تب بھی ان کاایمان ایک ایسی حقیر چیز ہے جس سے ہر ایک طالب عالی ہمت بالطبع متنفر ہو گا۔ہم ایسے لوگوں سے جھگڑنانہیں چاہتے اور ان کا اور اپنا تصفیہ فیصلہ کے دن پر چھوڑتے ہیں